உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Pakistan: صحافی سمیع ابراہیم کےخلاف تحقیقات کاآغاز، ’حکومتی پالیسیوں پررپورٹنگ کرناجرم ہے‘

    بتایا گیا ہے کہ صحافی کے خلاف جرم ثابت ہونے پر ایف آئی آر درج کی جائے گی۔

    بتایا گیا ہے کہ صحافی کے خلاف جرم ثابت ہونے پر ایف آئی آر درج کی جائے گی۔

    یہ انکوائری الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ایکٹ (پیکا) 2016 کے سیکشن 20 کے تحت شروع کی گئی تھی، جسے پی پی سی کے سیکشن 505 کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔ دریں اثنا ایف آئی اے کے نوٹس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ابراہیم نے ٹویٹ کیا کہ 14 مئی کو واپس آنے کے بعد ضروری قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    • Share this:
      پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (Pakistan’s Federal Investigation Agency) نے صحافی سمیع ابراہیم (journalist Sami Ibrahim) کے خلاف مبینہ طور پر ریاستی اداروں کے بارے میں جعلی خبریں پھیلانے کے الزام میں انکوائری شروع کر دی۔ ایف آئی اے نے ایک پریس بیان میں کہا کہ ابراہیم نے ایسے الزامات لگائے ہیں جو مسلح افواج کے اہلکاروں کو بغاوت پر اکسانے کی واضح کوششیں ہیں۔ سمیع ابراہیم بول نیوز (BOL News) کے ساتھ کام کرتا ہے۔

      پریس بیان میں مزید کہا گیا کہ اس نے بیرون ملک رہ کر میڈیا کے ذریعے پاکستان میں افراتفری پھیلانے کی کوشش کی ہے۔ ایجنسی نے یہ بھی کہا کہ صحافی کے بیرون ملک ہونے کی وجہ سے ان کے خلاف انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹس جاری کیا جائے گا اور ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالا جائے گا۔

      ابراہیم کو بھیجے گئے ایف آئی اے کے نوٹس میں الزام لگایا گیا ہے کہ اس نے حکومتی اہلکاروں/مسلح افواج کے اہلکاروں اور عام لوگوں کے درمیان خوف، عدم تحفظ اور بدامنی پھیلانے کے لیے ایک بیانیہ تیار کرنے کی کوشش کی ہے۔ ذرائع نے نیوز 18 کو بتایا کہ ابراہیم کے خلاف انکوائری اس کیس کی شروعات ہوسکتی ہے جو پاکستان سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف بنا رہا ہے۔

      سمیع ابراہیم نے کئی اعلیٰ سطحی عوامی شخصیات کے انٹرویو کیے ہیں، جن میں خان بھی شامل ہیں جنہیں اپریل میں قومی اسمبلی میں ان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ کے بعد معزول کر دیا گیا تھا۔ ایف آئی اے نے یہ بھی کہا کہ ابراہیم کو کیس میں اپنے دفاع کا موقع دیا جائے گا۔ صحافی کے خلاف جرم ثابت ہونے پر ایف آئی آر درج کی جائے گی جس کے بعد اسے گرفتار کر کے قانونی کارروائی کی جائے گی۔

      مزید پڑھیں: جہانگیر پوری تشدد معاملے میں 8 ملزمین کی ضمانت خارج، عدالت نے دہلی پولیس کو لگائی پھٹکار

      یہ انکوائری الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ایکٹ (پیکا) 2016 کے سیکشن 20 کے تحت شروع کی گئی تھی، جسے پی پی سی کے سیکشن 505 کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔ دریں اثنا ایف آئی اے کے نوٹس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ابراہیم نے ٹویٹ کیا کہ 14 مئی کو واپس آنے کے بعد ضروری قانونی کارروائی کی جائے گی۔

      مزید پڑھیں: روس-یوکرین جنگ: اسکول کی عمارت پر گرا بم، حملے میں 60 افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ

      انھوں نے کہا کہ حکومت نے میرے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ میں نے حکومتی نوٹس کی کاپی بھی منسلک کر دی ہے۔ میں نے اس معاملے پر اپنے وکیل راجہ عامر عباس سے بات کی ہے جنہوں نے ایف آئی اے کو بتایا ہے کہ میں اس وقت ملک سے باہر ہوں۔ 14 مئی کو میری واپسی کے بعد ضروری قانونی کارروائی کی جائے گی۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: