ہوم » نیوز » عالمی منظر

چین کی بربریت: کنبوں سے الگ کر کے 5 لاکھ مسلم بچوں کو بورڈنگ اسکول بھیجا

پچھلے تین برسوں میں شنجیانگ صوبہ میں کم ازکم 10 لاکھ اویغور اور دوسری برادری کے لوگوں کو جیلوں یا حراستی کیمپوں میں بھیجا جا چکا ہے۔

  • Share this:
چین کی بربریت: کنبوں سے الگ کر کے 5 لاکھ مسلم بچوں کو بورڈنگ اسکول بھیجا
چین کی بربریت: کنبوں سے الگ کر کے 5 لاکھ مسلم بچوں کو بورڈنگ اسکول بھیجا

ہوٹان۔ پہلی کلاس میں پڑھنے والی ایک بچی اچھی طالبہ ہے اور اپنی کلاس کے بچوں کی چہیتی ہے۔ لیکن وہ اداس رہتی ہے اور یہ بات اس کے اساتذہ سے بھی مخفی نہیں ہے۔


انہوں نے اپنے بلاگ میں لکھا، سب سے زیادہ دل توڑنے والی بات تو یہ ہے کہ یہ بچی اکثر ٹیبل پر سر جھکائے اکیلے بیٹھی رہتی تھی اور روتی رہتی تھی۔ جب میں نے پوچھ گچھ کی تو پتہ چلا کہ وہ اپنی ماں کو یاد کر رہی تھی۔


بچی کی معلمہ نے یہ بھی لکھا کہ بچی کی ماں کو اقلیتی مسلم برادری سے ہونے کے مدنظر حراستی کیمپ میں بھیج دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ بچی کے والد کی موت ہو چکی ہے۔ لیکن دیگر رشتہ داروں کو اس کی دیکھ بھال کی اجازت دینے کی بجائے حکام نے اسے حکومت کے ذریعہ چلائے جا رہے ایک بورڈنگ اسکول میں بھیج دیا ہے۔ یہ ایسے سینکڑوں اسکولوں میں سے ایک ہے جسے مغربی چین کے شنجیانگ صوبہ میں کھولا گیا ہے۔


پچھلے تین برسوں میں شنجیانگ صوبہ میں کم ازکم 10 لاکھ اویغور اور دوسری برادری کے لوگوں کو جیلوں یا حراستی کیمپوں میں بھیجا جا چکا ہے۔ اسے چین کے اسلام مذہب ماننے والی آبادی کو طاقت کے زور پر دبانے کے ایک قدم کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ حالانکہ، اس طرح سے اتنی بڑی آبادی کو حراست میں لینے سے چین کو عالمی سطح پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ پھر بھی چین کی حکومت علاقے کے بچوں کو بھی ایسے ہی نظام کے تحت لانے کی کوشش کر رہی ہے۔

ابھی تک کم ازکم پانچ لاکھ بچوں کو ان کے کنبوں سے الگ کر دیا گیا ہے اور انہیں بورڈنگ اسکولوں میں ڈال دیا گیا ہے۔ یہ اعداد وشمار چین کی سرکاری ویب سائٹ پر شائع ایک اسکیم بنانے کے کاغذات میں سے لئے گئے ہیں۔
First published: Dec 30, 2019 11:55 AM IST