உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستانی فوج کی زبان درازی، کہا- ہندوستان 5 رافیل لائے یا 500، ہم تیار ہیں

    پاکستانی فوج کے ترجمان بابر افتخار کی زبان درازی، کہا- ہندوستان 5 رافیل لائے یا 500، ہم تیار ہیں۔

    پاکستانی فوج کے ترجمان بابر افتخار کی زبان درازی، کہا- ہندوستان 5 رافیل لائے یا 500، ہم تیار ہیں۔

    پاکستانی فوج (Pakistan Army) نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے کہا کہ ہندوستان 5 رافیل (Rafael Fighter Jet) لے آئے یا 500 ہمیں اس سے کوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے، ہم  ہندوستان کی جارحیت کے خلاف پوری طرح تیار ہیں۔

    • Share this:
      اسلام آباد: ہندوستانی فضائیہ (Indian Air Force) کو رافیل جنگی طیارہ (Rafale Fighter Jet) کی طاقت ملنے کے بعد سے ہی پاکستانی فوج بوکھلائی ہوئی ہے۔ جمعرات کو پاکستانی فوج (Pakistan Army) نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے کہا کہ ہندوستان 5 رافیل لے آئے یا 500 ہمیں اس سے کوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے، ہم پوری طرح تیار ہیں۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ ہندوستان رافیل لائے یا ایس-400 ہم اس سب سے ڈرنے والے نہیں ہیں، ہم پوری جارحیت سے جواب دینے کے لئے تیار ہیں۔

      ڈان میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے اس بیان کو وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے ٹوئٹ کا جواب مانا جا رہا ہے۔ رافیل آنے کے بعد راجناتھ سنگھ نے ٹوئٹ کیا تھا کہ اس سے ان کی تشویش میں اضافہ ہونا چاہئے جو ہندوستان کی سالمیت اور خود مختاری کو چیلنج دینا چاہتے ہیں۔ پاکستان کے یوم آزادی (14 اگست) سے ایک دن پہلے منعقدہ پریس کانفرنس میں میجر جنرل افتخار نے رافیل، ہندوستان کے بڑھتے دفاعی بجٹ، کشمیر، جنگ بندی کی خلاف ورزی اور پاکستان - سعودی عرب کے تعلقات سمیت کئی اہم موضوعات پر بات کی۔ بابر افتخار نے کہا، ’پاکستان اور ہندوستان کے بڑھتے فوجی اخراجات اور دفاعی بجٹ کو لےکر تشویش ہے، لیکن وہ کسی بھی طرح کی جارحیت کے لئے تیار ہے۔ باوجود اس کے کہ ہندوستان نے حال ہی میں فرانس سے رافیل جنگی طیارے لئے ہیں’۔



      ہندوستان کی مضبوط ہوتی فوج سے گھبرایا پاکستان

      رافیل سے پاکستان کے لئے پیدا ہوئے خطرے سے متعلق سوال پر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا، ’ہندوستانی فوج پر دنیا میں سب سے زیادہ خرچ کر رہا ہے۔ وہ ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہے۔ فرانس سے لےکر ہندوستان تک جس طرح 5 رافیل کے سفر کو کورکیا گیا، وہ ان کی عدم تحفظ کے سطح کو دکھاتا ہے۔ اس کے باوجود چاہے وہ 5 رافیل خریدیں یا 500 ہمیں کوئی تشویش نہیں۔ ہم بالکل تیار ہیں اور ہمیں ہماری صلاحیت پر کوئی شک نہیں۔ اس کے آنے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑنے والا ہے’۔

       



      بابر افتخار نے کہا، ’ہمارے مقابلے ان کا دفاعی خرچ اور بجٹ میدان کے روایتی توازن کو متاثر کر رہا ہے۔ بین الاقوامی برادری کو بھی اس پر توجہ دینی چاہئے۔ پاکستان میں کئی لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان کا دفاعی بجٹ بہت زیادہ ہے۔ اس وقت ہم بجٹ کا 17 فیصد فوج، بحریہ اور فضائیہ پر خرچ کر رہے ہیں اور گزشتہ 10 سالوں میں پاکستان کا دفاعی خرچ مسلسل کم ہو رہا ہے۔ حالانکہ، اس کے باوجود ہماری صلاحیت کم نہیں ہوئی ہیں۔ اس لئے وہ رافیل لائیں یا ایس -400 ہماری تیاری پوری ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: