اپنا ضلع منتخب کریں۔

    دنیا کی آدھی دولت پر صرف 62 افراد کا قبضہ

    لندن: امیر اور غریب کے درمیان فرق اب اتنا زیادہ ہو گیا ہے کہ دنیا بھر کے نصف وسائل اور دولت و اثاثہ پر صرف 62 امیروں کا قبضہ ہے۔ ایک طرف دنیا کی ایک بڑی آبادی وسائل کی کمی کی وجہ کئی طرح کی مشکلات سے دوچار ہو رہی ہے تو دوسری طرف صرف 62 لوگوں کے پاس وسائل کی بھرمار ہے۔

    لندن: امیر اور غریب کے درمیان فرق اب اتنا زیادہ ہو گیا ہے کہ دنیا بھر کے نصف وسائل اور دولت و اثاثہ پر صرف 62 امیروں کا قبضہ ہے۔ ایک طرف دنیا کی ایک بڑی آبادی وسائل کی کمی کی وجہ کئی طرح کی مشکلات سے دوچار ہو رہی ہے تو دوسری طرف صرف 62 لوگوں کے پاس وسائل کی بھرمار ہے۔

    لندن: امیر اور غریب کے درمیان فرق اب اتنا زیادہ ہو گیا ہے کہ دنیا بھر کے نصف وسائل اور دولت و اثاثہ پر صرف 62 امیروں کا قبضہ ہے۔ ایک طرف دنیا کی ایک بڑی آبادی وسائل کی کمی کی وجہ کئی طرح کی مشکلات سے دوچار ہو رہی ہے تو دوسری طرف صرف 62 لوگوں کے پاس وسائل کی بھرمار ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      لندن: امیر اور غریب کے درمیان فرق اب اتنا زیادہ ہو گیا ہے کہ دنیا بھر کے نصف وسائل اور دولت و اثاثہ پر صرف 62 امیروں کا قبضہ ہے۔ ایک طرف دنیا کی ایک بڑی آبادی وسائل کی کمی کی وجہ کئی طرح کی مشکلات سے دوچار ہو رہی ہے تو دوسری طرف صرف 62 لوگوں کے پاس وسائل کی بھرمار ہے۔


      دی انڈیپنڈنٹ میں شائع اوکسفیم کی نئی رپورٹ کے مطابق 2010 سے غریب آبادی کی دولت میں 41 فیصد یا 10 ٹریلین ڈالر کی کمی آئی ہے، جس سے یہ پہلے کے مقابلہ اور زیادہ غریب ہو گئے ہیں جبکہ امیروں کی دولت میں 17.60 ٹریلین ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔


      ’این اكانومي فار دی 1فیصد‘کے عنوان سے شائع اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی سطح پر امیروں اور غریبوں کی درمیان اس فرق میں گزشتہ ایک سال میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ 2011 میں دنیا بھر کے 388 امیروں کے پاس دنیا کے آدھے وسائل تھے۔ اس کے بعد امیروں کی تعداد میں مسلسل گراوٹ درج کی جاتی رہی۔ 2014 میں یہ تعداد 80 تھی تو 2015 میں یہ مزید گر کر صرف 62 ہو گئی۔


      ایکسفیم کے سربراہ مارک گولڈرنگ کے مطابق ایک ایسی دنیا میں جہاں ہر نو میں سے ایک شخص ہر رات بھوکے پیٹ سوتا ہو، وہاں ان امیر لوگوں کو کیک کا سب سے بڑا ٹکڑا دینا مناسب نہیں ہے۔

      First published: