ہوم » نیوز » عالمی منظر

میانمار میں ایک مہینہ میں 6700 روہنگیا افراد کا قتل: ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی رپورٹ

میانمار میں مسلم اقلیتوں پر ہونے والے مظالم اب دنیا بھرمیں واضح طور پر اجاگر ہونے لگے ہیں۔ گزشتہ روز ایمنسٹی انٹر نیشنل نے رخائن میں مسلمانوں ،خاص طور سے مسلم خواتین کو کس طرح اذیتیں دی گئیں،ان کے ساتھ ساتھ جنسی زیادتیاں کی گئیں۔

  • UNI
  • Last Updated: Dec 14, 2017 12:59 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
میانمار میں ایک مہینہ میں 6700 روہنگیا افراد کا قتل: ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی رپورٹ
علامتی تصویر

لندن۔ میانمار میں مسلم اقلیتوں پر ہونے والے مظالم اب دنیا بھرمیں واضح طور پر اجاگر ہونے لگے ہیں۔ گزشتہ روز ایمنسٹی انٹر نیشنل نے رخائن میں مسلمانوں ،خاص طور سے مسلم خواتین کو کس طرح اذیتیں دی گئیں،ان کے ساتھ ساتھ جنسی زیادتیاں کی گئیں۔ یہ تمام رپورٹیں پیش کر کے ایمنسٹی نے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل سے میانمار کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی درخواست کی تھی۔ اب عالمی طبی امدادی ادارے ’ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز ‘کا کہنا ہے کہ میانمار میں اگست کے مہینے شروع ہونے والے پرتشدد واقعات میں ایک مہینے کے دوران کم از کم 6700 روہنگیا افراد کو قتل کیا گیا۔


بنگلہ دیش میں پناہ گزینوں سے کیے گئے سروے کے مطابق یہ تعداد میانمار کی جانب سے سرکاری طور پر پیش کی گئی 400 کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔ ’ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ کا کہنا ہے کہ یہ ’وسیع پیمانے پر پھیلنے والے تشدد کی واضح ترین نشانی ہے۔‘میانمار کی فوج پرتشدد واقعات کا الزام ’دہشت گردوں‘ پر عائد کرتی ہے اور کسی بھی غلط کام میں ملوث ہونے کی تردید کرتی ہے۔ ’ڈاکٹرز ود آوٹ بارڈرز‘ کا کہنا ہے کہ 647000 روہنگیا نے اگست سے بنگلہ دیش نقل مکانی کی ہے۔طبی تنظیم کے سروے کے مطابق 25 اگست سے 24 ستمبر کے درمیان نو ہزار روہنگیا میانمار میں مارے گئے۔’ڈاکٹرز ود آؤٹ باڈرز‘ کے مطابق محتاط ترین اندازوں کے مطابق کم از کم 6700 ہلاکتیں پرتشدد واقعات میں ہوئیں جن میں کم از کم پانچ سال سے کم عمر کے 730 بچے شامل ہیں۔


اس سے قبل میانمار کی فوج کا کہنا تھا کہ تقریباً 400 افراد ہلاک ہوئے اور انھیں مسلمان دہشت گرد قرار دیا تھا۔ روہنگیا کے خلاف فوجی آپریشن 25 اگست کو اس وقت شروع کیا گیا تھا جب روہنگیا مسلح تنظیم اسرا نے 30 سے زائد پولیس چوکیوں پر حملے کیے۔ اندرونی تحقیقات کے مطابق نومبرمیں میانمار کی فوج نے اس بحران کی ذمہ داری سے خود کو مبرا قرار دے دیا تھا۔ فوج نے شہریوں کے قتل، دیہات کو نذر آتش کرنے، خواتین اور لڑکیوں کے ریپ اور لوٹ مار میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی۔ یہ دعوے بی بی سی نامہ نگاروں کی جانب سے دیکھے گئے شواہد کے منافی ہیں اور اقوام متحدہ کی جانب سے بھی اسے نسل کشی قرار دیا جا چکا ہے۔


ڈاکٹرز ود آوٹ باڈرز کے میڈیکل ڈائریکٹر سڈنی وونگ کا کہنا ہے کہ ’جو کچھ ہم سامنے لے کر آئے وہ حیران کن ہے، تعداد کے حوالے سے وہ لوگ جن کے خاندان کا کوئی فرد پرتشدد واقعات میں قتل ہوا، اور جس انداز میں انھیں قتل یا زخمی کیا گیا۔‘ڈاکٹرز ود آؤٹ باڈرز کے مطابق ہلاک ہونے والے پانچ سال سے کم عمر بچوں میں 59 کو مبینہ طور پر گولی ماری گئی، 15 فیصد کو جلایا گیا، سات فیصد کو مار مار کے ہلاک کیا اور دو فیصد بارودی سرنگ سے ہلاک ہوئے۔ خیال رہے کہ نومبر میں بنگلہ دیش نے میانمار کے ساتھ ایک معاہدہ طے کیا تھا جس کے مطابق میانمار میں فوجی کارروائی کے دوران ہزاروں کی تعداد میں نقل مکانی کرنے والے روہنگیا مسلمانوں کو واپس بھیجا جائے گا۔ تاہم میانمار کے دارالحکومت نیپیدو میں طے پانے والے اس معاہدے کی تفصیلات جاری نہیں کی گئی تھیں۔


First published: Dec 14, 2017 12:59 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading