உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Russia Ukraine War: سومی سے محفوظ نکالے گئے 674 ہندوستانی وطن واپس پہنچے، افراد خاندان نے گلدستہ دے کر کیا استقبال

    آپریشن گنگا کے تحت یوکرین میں پھنسے ہندوستانیوں کی وطن واپسی کا سلسلہ جاری۔

    آپریشن گنگا کے تحت یوکرین میں پھنسے ہندوستانیوں کی وطن واپسی کا سلسلہ جاری۔

    Russia Ukraine War: امدادی پرواز سے اترنے پر اپنی ماں کو گلے لگانے کے بعد دھروو پنڈت نے کہا، ’’اب میں ہندوستان واپس آ گیا ہوں، لیکن میں جس صورتحال سے گزرا وہ مجھے ڈراتا رہے گا۔ جنگ کے دوران سومی میں زندگی خوفناک تھی۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں زندہ ہندوستان واپس جا سکوں گا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: مشرقی یوکرین(Ukraine) کے جنگ زدہ شہر سومی (Sumi) سے بحفاظت نکالے گئے طلبہ سمیت 674 افراد کو لے کر تین پروازیں جمعہ کو یہاں پہنچیں۔ وطن واپس آنے والے ہندوستانی شہری وہاں کے خوفناک منظر اور جنگ کے دوران دو ہفتوں تک اپنی جان بچانے کی کوششوں کو بیان کرتے ہوئے خوفزدہ ہوگئے۔ ایئر انڈیا(Air India) اور انڈیگو کی دو پروازیں 461 افراد کے ساتھ صبح 6.45 اور دوپہر 12.20 پر اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچیں۔ جب کہ ہندوستانی فضائیہ کا C-17 طیارہ 213 مسافروں کے ساتھ دوپہر 12:15 پر ہیندن ایئر بیس پر اترا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      مسلسل13دن تک Russia -Ukraine War کےدوران ایسی ہوئی حالت، سومی میں پھنسے طلبانےسنائی داستان

      یوکرین سے ہندوستانی شہریوں کے انخلاء کے عمل کو مکمل کرنے کے بارے میں حکومت کی طرف سے کوئی سرکاری بیان نہیں آیا ہے، لیکن پولینڈ کے رزیزوو سے آنے والی یہ تین پروازیں آخری پروازیں مانی جاتی ہیں۔ طلباء کے دہلی ایئرپورٹ سے باہر نکلتے ہی اہل خانہ کے جذبات اُمڈ پڑے۔ انہیں ان کے والدین نے گلے لگایا، جو اپنے بچوں کو دیکھنے کے لیے وہاں پانچ چھ گھنٹے انتظار کر رہے تھے۔ آنسوؤں بھری آنکھوں کے ساتھ، بہت سے والدین اور طلباء کے لواحقین نے مٹھائیاں تقسیم کیں اور اپنے بچوں کو پھولوں کے ہار پہنائے، جب کہ دیگر نے آئی جی آئی ایئرپورٹ کے گیٹ نمبر پانچ سے باہر نکلتے ہی گلدستے سے ان کا استقبال کیا اور گلے لگایا۔ کچھ طلباء کے اہل خانہ نے بھارت ماتا کی جئے اور مودی ہے تو ممکن ہے جیسے نعرے بھی لگائے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Russia-Ukraine War:یوکرین میں روس کی جائیداد ہوگی ضبط، زیلینسکی نے نئے قانون پر کیے دستخط

      دھروو نے بیاں کیا اپنا درد
      امدادی پرواز سے اترنے پر اپنی ماں کو گلے لگانے کے بعد دھروو پنڈت نے کہا، ’’اب میں ہندوستان واپس آ گیا ہوں، لیکن میں جس صورتحال سے گزرا وہ مجھے ڈراتا رہے گا۔ جنگ کے دوران سومی میں زندگی خوفناک تھی۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں زندہ ہندوستان واپس جا سکوں گا۔ پنڈت نے اپنی آپ بیتی بیان کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسے سومی میں کچھ دیگر طلباء کے ساتھ یرغمال بنایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا، ’ہم ایک بنکر میں تھے اور وہاں کوئی کھانا یا پانی نہیں تھا۔ پینے کے پانی کے لیے ہمیں برف پگھلانی پڑی۔ ہمیں وہاں سے جانے کی اجازت نہیں دی جارہی تھی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: