உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستان کے سندھ میں نمونیہ کا خطرہ، 7،462 معصوم بچوں نے گنوائی جان - جانیے کتنے لوگ ہوئے شکار

    پاکستان کے صوبہ سندھ میں نمونیہ کا قہر۔

    پاکستان کے صوبہ سندھ میں نمونیہ کا قہر۔

    کسی بھی انفیکشن کی وجہ سے پھیپھڑوں میں سوجن آجاتی ہے، جسے نمونیہ کہتے ہیں۔ حالانکہ زیادہ تر نمونیہ بیکٹیریا کے انفیکشن کی وجہ سے ہوتا ہے۔ انفلوئنزا یا کوویڈ-19 وائرس جیسے وائرل انفیکشن بھی پھیپھڑوں کو متاثر کرسکتے ہیں۔

    • Share this:
      اسلام آباد: پاکستان کے صوبہ سند میں نمونہ سے 7,462 بچوں کی موت کی خبر سامنے آئی ہے۔ وہیں پانچ سال سے کم عمر کے 27،136 بچے اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ سندھ محکمہ صحت کے عہدیدار نے یہ جانکاری دی ہے۔ معلومات کے مطابق، 46 سے زیادہ بچے جن کی عمر محج پانچ سال تھی اور 8534 لوگ (جن میں بچے اور بالغ شامل ہیں) اس سال نمونیہ سے متاثر تھے۔ انہوں نے کہا کہ 60 فیصد سے زیادہ کیسیز سندھ کے دیہی علاقوں سے جب کہ 40 فیصدی صوبے کے شہری حصے سے سامنےآئے ہیں۔

      کیا ہوتا ہے نمونیہ
      کسی بھی انفیکشن کی وجہ سے پھیپھڑوں میں سوجن آجاتی ہے، جسے نمونیہ کہتے ہیں۔ حالانکہ زیادہ تر نمونیہ بیکٹیریا کے انفیکشن کی وجہ سے ہوتا ہے۔ انفلوئنزا یا کوویڈ-19 وائرس جیسے وائرل انفیکشن بھی پھیپھڑوں کو متاثر کرسکتے ہیں۔ کورونا وبا اس کا واضح ثبوت ہے۔ بتادیں کہ نمونیہ خاص طور سے بالغوں اور بچوں کے لئے جان لیوا ہے۔

      ہندوستان میں بھی نمونیہ ایک اہم مسئلہ بنا ہوا ہے۔ بیکٹیریا، وائرس اور کئی طرح کے وائرس نمونیہ کی وجہ بن سکتے ہیں۔ یہ خاص طور سے کم غذائی کمیت کے شکار اور کمزور امیونٹی والے لوگوں پر حملہ کرتا ہے۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ شراب نوشی یا تمباکو نوشی کرنے والوں میں نمونیہ کے امکانات سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔

      وہ وجوہات جو نمونیہ کا سبب بن سکتے ہیں
      بچوں میں غذائیت کی کمی
      گھر یا کام کی جگہ پر وینٹی لیشن کی کمی
      جو لوگ آرگن ٹرانسپلانٹ یا آٹو امیون ڈس آرڈر کے لئے اسٹیروائیڈ یا دیگر امیونو اسپرنٹ دوائیاں لیتے ہیں۔
      کئی مرتبہ بے قابو ذیابطیس کے مریضوں کو بھی نمونیہ کا خطرہ ہوتا ہے۔

      نمونیہ کا علاج
      ڈاکٹر نمونیہ کے علاج کے لئے ایک دوا لکھ سکتا ہے۔ اورل اینٹی بائیوٹیکس سے بیکٹیرئیل نمونیہ کے زیادہ تر کیسیز کا علاج ممکن ہے۔ ہمیشہ اینٹی بائیوٹیکس کا پورا کورس لیں، بھلے ہی آپ بہتر محسوس کرنے لگے ہوں۔ کچھ معاملوں میں ڈاکٹر اینٹی وائرل لکھ سکتا ہے۔ حالانکہ، وائرل نمونیہ کے کئی کیسیز گھ رپر دیکھ بھال سے اپنے آپ ٹھیک ہوجاتے ہین۔ اینٹی فنگل دواوں کا استعمال فنگل نمونیہ کے علاج کے لئے کیا جاتا ہے۔

      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: