உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    لاک ڈاؤن میں مہینوں تک دوستوں نہیں ملی 8سالہ بچی، تو ہو گئی ایسی خطرناک حالت، نوچ ڈالے سر کے سارے بال

    خاتون نے بتایا کہ پہلے  انہوں نے امیلیا کو پلکیں نوچنے کی حرکت کو نظرانداز کیا لیکن جب   انہوں نے دیکھا کہ اس کی وجہ سے امیلیا کی پلکیں ہی ختم ہو گئیں تو وہ پریشان ہونے لگیں ۔

    خاتون نے بتایا کہ پہلے انہوں نے امیلیا کو پلکیں نوچنے کی حرکت کو نظرانداز کیا لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ اس کی وجہ سے امیلیا کی پلکیں ہی ختم ہو گئیں تو وہ پریشان ہونے لگیں ۔

    خاتون نے بتایا کہ پہلے انہوں نے امیلیا کو پلکیں نوچنے کی حرکت کو نظرانداز کیا لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ اس کی وجہ سے امیلیا کی پلکیں ہی ختم ہو گئیں تو وہ پریشان ہونے لگیں ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      کورونا وائرس وبائی امراض (Coronavirus Pandemic)  کے دوران تقریبا ہر ملک نے اپنی جگہ پر لاک ڈاؤن  کا اعلان کیا تھا  جس کے بعد ہر کوئی اپنے گھروں میں بند تھا۔ ویسے تو لاک ڈاؤن کورونا کی روک تھام کے لیے بہت اچھا حل تھا  لیکن بہت سے لوگوں کے لیے گھر سے باہر نہ نکلنا بہت مشکل تھا۔ لوگ گھر میں رہتے ہوئے پریشان ہو گئے اور تناؤ کی وجہ سے لوگوں کی ذہنی حالت بھی بگڑنے لگی۔ کچھ ایسا ہی ایک 8 سالہ بچی  (8 year old child) کے ساتھ بھی ہوا۔ وہ لاک ڈاؤن سے اس قدر تناؤ  (Lockdown Stress) میں آگئی تھی کہ اس نے اپنے ہی بال ہی نوچ  (Girl rip out own hair) ڈالے!

      ہندی میں سر کے بال نوچ  لینا محاورہ تب استعمال کیا جاتا ہے جب کوئی پریشان ہو یا دباؤ میں آجائے جس لڑکی کے بارے میں ہم یہاں بات کر رہے ہیں اس نے محاورے میں نہیں بلکہ اس نے حقیقت میں پریشان ہو کر اپنے سر کے بال نوچ لیے اور اب وہ گنجی (Bald)  ہو گئی ہے۔ برطانیہ  کے (Britain)برسٹل   (Bristol)  میں  ایک 8 سالہ بچی امیلیا  (Amelia) لاک ڈاؤن (Lockdown) کی وجہ سے اس قدر تناؤ میں آگئی کہ اس نے اپنے بال نوچنا شروع کردیئے اور آہستہ آہستہ وہ گنجی ہو گئی۔ اب اس کے سر پر صرف چند لمبے بال باقی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی وہ گھر سے باہر آتی ہے  وہ اپنے سر پر کپڑا باندھتی ہے۔ امیلیا کی ماں جیما مانسی دنگ رہ گئی جب انہوں نے پہلی بار اپنی بیٹی کو اپنی پلکیں  (Eyelashes)  نوچتے دیکھا۔

      اب اس کے سر پر صرف چند لمبے بال باقی ہیں۔


      8 سالہ بچی امیلیا  (Amelia) کی ماں نے مرر ویب سائٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پہلے لاک ڈاؤن میں  امیلیا اپنی پلکیں کھینچتی تھی اور آہستہ آہستہ اس نے اپنی تمام پلکیں توڑ ڈالیں۔ ان کا ماننا ہے کہ لاک ڈاؤن میں اسکول نہ جانے اور دوستوں سے نہ ملنے کی وجہ سے ان کی بیٹی بہت زیادہ تناؤ کا شکار ہو گئی جس کی وجہ سے اس کے اندر ٹرائکوٹیلومینیا trichotillomania  نامی حالت پیدا ہو گئی جس میں ذہنی دباؤ میں آنے والے شخص نے اپنے بال توڑنا شروع کر دیتے ہیں اور خود کو ایسا کرنے سے روک نہیں پاتے ہیں۔

      خاتون نے بتایا کہ پہلے  انہوں نے امیلیا کو پلکیں نوچنے کی حرکت کو نظرانداز کیا لیکن جب   انہوں نے دیکھا کہ اس کی وجہ سے امیلیا کی پلکیں ہی ختم ہو گئیں تو وہ پریشان ہونے لگیں ۔ دوسرے لاک ڈاؤن میں امیلیا نے اپنے بال توڑنا شروع کردیئے تھے۔ جیما نے کہا کہ وہ کبھی کبھی اپنی بیٹی کو روکتی تھی کہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے لیکن اسے لگا کہ وہ پہلے سے ہی تناؤ میں ہے اس لیے وہ اسے مزید پریشان نہیں کرنا چاہتی تھیں، جب امیلیا نے اپنے سر کے پچھلے بالوں کو توڑنا شروع کیا تو اس کے بال کندھے تک آتے تھے۔ اس کے سر پر بہت چھوٹے بال باقی ہیں۔ سر کے پیچھے کے کچھ بال لمبے ہیں۔ ماں نے بتایا کہ امیلیا نے بھی پرواہ نہیں کی اور اپنے بال توڑتی رہی۔ اب جب کہ اس نے اپنے سر سے بال اکھاڑ لیے ہیں ، اسے باہر جانے میں شرم محسوس ہوتی ہے۔ اسی لیے وہ ہمیشہ اپنا سر ڈھانپتی ہے۔

       
      Published by:Sana Naeem
      First published: