نائن الیون کی 18ویں برسی سے عین قبل کابل میں امریکی سفارتخانہ پر راکٹ حملہ

افغانستان میں 18 برس سے جاری امریکہ کی طویل ترین جنگ کے خاتمہ کیلئے طالبان اور ٹرمپ حکومت کے مابین ہونے والے مذاکرات کو ممکنہ معاہدہ کے قریب پہنچ کر ختم کردینے کے بعد کابل میں یہ اب تک کا پہلا بڑا حملہ ہے۔

Sep 11, 2019 12:19 PM IST | Updated on: Sep 11, 2019 12:19 PM IST
نائن الیون کی 18ویں برسی سے عین قبل کابل میں امریکی سفارتخانہ پر راکٹ حملہ

افغان دارالحکومت کے وسط میں واقع سفارت خانے سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے

کابل۔ 11 ستمبر 2001 کے ہونے والے حملوں کے 18 برس مکمل ہونے پر افغانستان میں امریکی سفارت خانے پر راکٹ فائر کیا گیا۔ راکٹ حملہ کے ایک گھنٹے بعد حکام نے بتا یا کہ حملے کے نتیجے میں کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا جبکہ حکام نے امریکی سفارت خانے کے احاطے کو بھی کلیئر قرار دیا۔

امریکی خبررساں ایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق رات گئے افغان دارالحکومت کے وسط میں واقع سفارت خانے سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے جس کے بعد سائرن بجنا شروع ہوگئے اور ملازمین نے لاؤڈ اسپیکر پر یہ اعلان سنا کہ ’’ایک راکٹ کے باعث کمپاؤنڈ میں دھماکہ ہوا ہے‘‘۔ دوسری جانب امریکی سفارت خانے کے نزدیک موجود ناٹو مشن نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ حملہ میں کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔

Loading...

خیال رہے کہ افغانستان میں 18 برس سے جاری امریکہ کی طویل ترین جنگ کے خاتمہ کیلئے طالبان اور ٹرمپ حکومت کے مابین ہونے والے مذاکرات کو ممکنہ معاہدہ کے قریب پہنچ کر ختم کردینے کے بعد کابل میں یہ اب تک کا پہلا بڑا حملہ ہے۔ اس سے قبل گزشتہ ہفتہ طالبان نے کابل میں 2 کار بم دھماکے کئے تھے جس کے نتیجے میں ناٹو کے 2 اہلکاروں سمیت متعدد شہری ہلاک ہوگئے تھے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملہ میں ایک امریکی فوجی کی ہلاکت کو امریکہ طالبان مذاکرات ’مردہ‘ ہونے کی وجہ قرار دیا تھا، جس کے بعد 11 ستمبر جسے افغانستان میں حساس دن سمجھا جاتا ہے اس دن کابل میں یہ حملہ ہوگیا۔

یاد رہے کہ 11 ستمبر 2001 کو امریکہ کے شہر نیویارک میں واقع ’ٹوئن ٹاورز‘ پرہونے والے حملے کے بعد امریکہ کی سربراہی میں افغانستان میں جنگ کا آغاز ہوا تھا جس کے نتیجے میں حملوں کا ماسٹر مائنڈ قرار دیے جانے والے القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کو پناہ دینے والے طالبان کی حکومت کا تختہ الٹ گیا تھا۔18 برسوں سے جاری اس جنگ کے دوران افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ تک جا پہنچی تھی تاہم 2011 میں پاکستان میں روپوش اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد اس تعداد میں ڈرامائی طور پر کمی واقع ہوئی تھی۔ تاہم، اب افغانستان میں 14 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں۔

Loading...