اپنا ضلع منتخب کریں۔

    11 فروری کو ہوگا آسمانی واقعہ جس کولے کر بڑھا ٹینشن، زمین پر پڑے گا یہ اثر

    بتایا جا رہا ہے کہ پھر ایک بہت بڑا سیارچہ زمین کے قریب سے گزرے گا۔ ایسے میں اسے زمین کے لیے ایک بحران مانا جا رہا ہے۔ سائنسدانوں کو اس سیارچے کے بارے میں کافی ٹینشن ہے کہ کہیں یہ زمین سے نہ ٹکرا جائے۔

    بتایا جا رہا ہے کہ پھر ایک بہت بڑا سیارچہ زمین کے قریب سے گزرے گا۔ ایسے میں اسے زمین کے لیے ایک بحران مانا جا رہا ہے۔ سائنسدانوں کو اس سیارچے کے بارے میں کافی ٹینشن ہے کہ کہیں یہ زمین سے نہ ٹکرا جائے۔

    بتایا جا رہا ہے کہ پھر ایک بہت بڑا سیارچہ زمین کے قریب سے گزرے گا۔ ایسے میں اسے زمین کے لیے ایک بحران مانا جا رہا ہے۔ سائنسدانوں کو اس سیارچے کے بارے میں کافی ٹینشن ہے کہ کہیں یہ زمین سے نہ ٹکرا جائے۔

    • Share this:
      ہر روز آسمان پر بہت سے آسمانی واقعات (Celestial Event) رونما ہوتے ہیں۔ کئی سیارچے ادھر ادھر حرکت کرتے ہیں اور بعض اوقات ان کے ٹکرانے جیسے واقعات بھی ہوتے ہیں۔ ویسے آسمانی واقعات کا اثر زمین پر بھی ہوتا ہے جس میں سورج گرہن(Solar Eclipse) یا چاند گرہن وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن، حال ہی میں ناسا(NASA) کی ایک رپورٹ آئی ہے اور یہ رپورٹ زمین کے لیے تشویش کو بڑھانے والی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ایک بڑے سائز کا ایسٹروائیڈ زمین کے قریب آنے والا ہے اور اس کا اثر زمین پر بھی پڑ سکتا ہے۔

      ایسے میں سوال یہ ہے کہ یہ سیارچہ کتنا بڑا ہے اور کیا یہ زمین سے ٹکرانے والا ہے۔ اگر ایسا ہے تو یہ زمین سے کم ٹکراسکتا ہے اور اس سے کتنے نقصان کا اندیشہ ہے؟ اگر آپ کے ذہن میں اس سیارچے کے بارے میں یہ سوالات ہیں تو آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ کس طرح یہ ایسٹروائیڈ یا سیارچہ ٹینشن بڑھا سکتا ہے۔

      کیا ہے آسمانی اپ ڈیٹ؟
      دراصل، ناسا کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جلد ہی آسمان سے کوئی خطرہ آنے والا ہے۔ ویسے نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی کئی سیارچے زمین کے بہت قریب آ رہے ہیں۔ لیکن، اب بتایا جا رہا ہے کہ پھر ایک بہت بڑا سیارچہ زمین کے قریب سے گزرے گا۔ ایسے میں اسے زمین کے لیے ایک بحران مانا جا رہا ہے۔ سائنسدانوں کو اس سیارچے کے بارے میں کافی ٹینشن ہے کہ کہیں یہ زمین سے نہ ٹکرا جائے۔

      کتنا بڑا ہے یہ ایسٹروائیڈ؟
      رپورٹس کے مطابق ناسا کی جانب سے اس سیارچے کو خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ تقریباً 100 منزلہ عمارت جتنا بڑا ہے، یعنی تقریباً 4 ہزار 2 سو 65 فٹ چوڑاہے۔ اب آپ سوچیں کہ اگر اتنا بڑا سیارچہ زمین سے ٹکرا جائے تو زمین میں کس طرح سے تباہی ہو سکتی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ 11 فروری کو ایک سیارچہ زمین کے قریب آئے گا۔

      زمین سے کتنی دور سے گزرسکتا ہے ایسٹروائیڈ؟
      سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ یہ سیارچہ زمین سے 30 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے گزرے گا۔ یہ بڑی رفتار سے بڑھ رہا ہے اور اندازہ ہے کہ 11 فروری کو یہ زمین کے قریب ترین ہو گا۔ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ زمین کی سمت نہیں بڑھ رہا، اس لیے یہ زمین کے لیے زیادہ مشکل نہیں ہے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ سائنسدان اتنے بڑے سیارچے پر مسلسل نظر رکھتے ہیں کیونکہ اگر یہ زمین سے ٹکراتا ہے تو اس سے بڑی تباہی ہو سکتی ہے۔

      یہ سیارچہ 21 فروری 1900 کو دریافت ہوا تھا۔ یہ ہر سال نظام شمسی کے قریب سے گزرتا ہے اور تقریباً ایک سال قبل 18 فروری 2021 کو بھی یہ سیارچہ زمین کے قریب تھا۔ سائنسدانوں نے اب تک جو اندازہ لگایا ہے اس کے مطابق اس کے زمین سے ٹکرانے کا امکان بہت کم ہے۔ دراصل یہ جہاں سے گزرے گا وہ زمین سے بہت دور ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: