உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    خواتین کا ختنہ' ، تاکہ ان کی تمام جنسی خواہشات کو دبایا جا سکے۔۔۔۔۔'

    علامتی تصویر

    علامتی تصویر

    ویسے تو بوہرہ مسلمان بہت پروگریسو مانے جاتے ہیں۔ لیکن خواتین کا ختنہ کرنے کے اس غیر انسانی عمل کو ابھی تک چھوڑ نہیں پائے ہیں

    • Share this:
      ایک 7 سالہ بچی  جس کی ماں، دادی، نانی اسے چاکلیٹ یا آئس کریم کی لالچ دے کر گھر سے باہر لے جاتی ہیں۔  بچی تو خوش ہے لیکن اس بات سے بالکل انجان کہ آج  کے بعد اس کی زندگی بالکل بدل جائے گی۔ صرف اس لئے نہیں کہ اس کے جسم سے کچھ گھٹ جائے گا بلکہ اس لئے کیونکہ اس کے جسم کے ساتھ ایسا کرنے سے پہلے نہ تو اسے بتایا جائے گا اور نہ ہی اس کی اجازت لی جائے گی۔ بچی ماں، نانی یا دادی کا ہاتھ پکڑے ہوئے ہے جو اسے ایک اندھیرے کمرے میں لے جاتی ہیں۔ دائی یا ڈاکٹر کے ذریعہ لڑکی کا ختنہ کیا جاتا ہے۔ ختنہ یعنی اس کے پرائیویٹ پارٹ کو دھاردار بلیڈ سے کاٹ دیا جاتا ہے۔ چیرا صرف ایک لگتا ہے لیکن اس کا زخم پوری زندگی کے لئے بچی کے دماغ میں بیٹھ جاتا ہے۔

      یہ کسی ایک لڑکی کی کہانی نہیں ہے، نہ ہی آج سے 500 سال پرانا کوئی واقعہ ہے ۔ خواتین کا ختنہ ایک ایسا عمل ہے جو آج بھی ہندوستان سمیت دنیا کے بہت سے حصوں میں جاری ہے۔ ہندستان میں خواتین کا ختنہ داؤدی بوہرہ مسلم گروپ میں محدود ہے۔ بوہرہ شیعہ مسلمان ہوتے ہیں جن کی آبادی ہندوستان میں ،ممبئی ، مدھیہ پردیش اور گجرات میں زیادہ ہے۔بوہرا گروپ کے آدمی سنہرے رنگ کی کڑھائی والی ٹوپی پہنتے ہیں اور خواتین کے برقعے رنگین  اور خوبصورت کڑھائی دار ہوتےہیں ۔اس وجہ سے اس گروپ کے لوگوں کو آسانی سے پہچانا جا سکتا ہے۔
      ویسے تو بوہرہ مسلمان بہت پروگریسو مانے جاتے ہیں۔ لیکن خواتین کا ختنہ کرنے کے اس غیر انسانی عمل کو ابھی تک چھوڑ نہیں پائے ہیں۔ جیسے ہی کوئی لڑکی 7 سال کی ہوتی ہے پہلے دائیوں اوراب ڈاکٹروں کے ذریعے ان کا ختنہ کروا دیا جاتا ہے۔

      خواتین کے رحم میں کلٹورس کا بہت اہم کردار ہے۔ یہ حصہ بچے پیدا کرنے سے تو نہیں جڑا ہے لیکن جنسی تعلقات کے دوران خاتون کے آرگیزم میں کلٹورس کا اہم کردار ہوتا ہے۔ یہ ایک ابھرا ہوا حصہ ہوتا ہے جوخاتون کی شرمگاہ سے تھوڑا اوپر پایا جاتا ہے۔ ختنہ کرنے کیلئے کلٹورس کا ابھرا ہوا حصہ کاٹ دیا جاتا ہے۔

      FEMALE

      اس کے پیچھے بوہرا سماج کے کچھ لوگ ایک دلیل بھی پیش کرتے ہیں۔ کلٹورس کو بوہرا سماج میں ’ حرام کی بیٹی‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ان کے مطابق چھوٹی عمر میں ہی اس حصہ کو کاٹ دینے سے لڑکی کے دل میں سیکس کے تئیں ’ غیر فطری‘ خواہشات نہیں ابھرتیں۔ ان کا ماننا ہے کہ جن لڑکیوں کا ختنہ ہوتا ہے وہ اپنے شوہر کے تئیں زیادہ ایماندار ہوتی ہیں۔ کل ملا کر خواتین کے ختنہ کرنے کا مقصد ان کی جنسی خواہشات کو مار دینا ہے۔

      جب ایک متاثرہ نے ختنہ رکوانے کیلئے لکھا وزیر اعظم کو خط

      معصوما رانالوی بوہرہ سماج سے آتی ہیں اور خواتین پر ہونے والے جرم کے خلاف لڑ رہی ہیں۔ انہوں نے 2017 میں وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھا۔ اس خط میں ا نہوں نے کہا کہ طلاق ثلاثہ پر پی ایم مودی کا رویہ قابل تعریف رہا لیکن ملک میں مسلمان خواتین کی یہ واحد مصیبت نہیں ہے۔

      انڈین ایکسپریس اخبار میں چھپے اس خط میں انہوں نے لکھا ، "ختنہ معصوم بچیوں کا کیا جاتا ہے ، جن میں تب تک اپنے جسم کو لیکر سمجھ بھی پیدا نہیں ہوئی ہوتی ۔جسمانی اور ذہنی طور سے بچیوں پر اس کا بہت برا اثر پڑتا ہے۔ بچیاں اس درد کو سہہ نہیں پاتیں اور ہر سال بہت سی بچیاں اس درد سے یا توکوما میں چلی جاتی ہیں یا ان کی موت ہو جاتی ہے"۔

      معصوما رانالوی کی بھی ہے ایک دردناک کہانی

      یہ کہانی پڑھتے ہوئے آپ کا پریشان ہو جانا فطری ہے۔ اگر آپ چاہیں تو اسے نہ پڑھ کر اگلے حصے کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔ سوچئے ان لڑکیوں کے بارے میں جنہیں ایسی زندگی جینے کیلئے مجبورکیا جاتا ہے۔

      معصوما نے بہت سے موقعوں پر اپنی کہانی بھی ساجھا کی ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ جب وہ 7 سال کی ہوئیں ایک روز ان کی دادی انہیں ممبئی کے بوہرہ محلے میں لیکر گئیں۔ آئس کریم کا لالچ دیکر اندھیری گلیوں سے ہوتے ہوئے وہ لوگ ایک گھر کی پہلی منزل پر پہنچے ۔وہاں ایک خاتون پہلے سےموجود تھی جس نے معصوما کو زمین پر لیٹنے کو کہا اور کھڑکیوں کے پردے لگا دئے۔

      بی بی سی سے لی گئی علامتی تصویر

      پھر اس خاتون نے معصوما کی پینٹ اتاری اور کہا کہ تھوڑا سا درد ہوگا۔ اس 7 سال کی بچی کو سمجھ نہیں آرہا تھا۔ اس نے اپنی دادی کا ہاتھ زور سے پکڑ لیا۔ درد سے تڑپ اٹھی وہ بچی اوراچانک اس عورت نے اس کی پینٹ واپس چڑھادی اور انہیں گھر واپس بھیج دیا۔ گھر آکر معصوما اپنی ماں سے لپٹ کر بہت روئی۔ ماں نے کہا کہ وہ جلد ٹھیک ہو جائے گی۔ وہ زخم تو بھر گیا لیکن اس کا دماغ پر جو اثر پرا ، معصوما کہتی ہیں کہ وہ آج  تک ان کے ساتھ چلتا ہے۔

      اس دن کیا ہوا تھا یہ سمجھنے کیلئے معصوما اس وقت بہت چھوٹی تھیں لیکن عمراور پڑھائی کے ساتھ انہیں سمجھ آگیا کہ اس سیلن بھرے کمرے میں ان کا ختنہ کیا گیا تھا۔

      (کیا کہتی ہے ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ )
      ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلو ایچ او) صاف کہتی ہے کہ خواتین کا ختنہ کہیں سے بھی ان کیلئے فائدہ مند نہیں ہے۔ اس سے لڑکیوں اورخواتین کی صحت پر برا اثر پڑتا ہے۔ ختنہ کرتے وقت خواتین کے جسم سے صحت مند خلیات ہٹا دی جاتی ہیں۔ آس پاس کی چمڑی پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے۔ ختنے کی وجہ سے تیز درد ،شاک، زیادہ خون بہنے سے ہیمریج ،ٹیٹنس ،سپٹک اور یورین انفیکشن ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔






      First published: