ہوم » نیوز » عالمی منظر

لیبیا میں 105 پناہ گزینوں کی لاشیں برآمد، اقوام متحدہ کا اظہار تشویش

بحیرہ روم میں پناہ گزینوں سے بھری ایک کشتی کے ڈوبنے کے بعد لیبیا میں آج 105 لاشیں برآمد کی گئیں

  • UNI
  • Last Updated: Aug 29, 2015 10:22 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
لیبیا میں 105 پناہ گزینوں کی لاشیں برآمد، اقوام متحدہ کا اظہار تشویش
بحیرہ روم میں پناہ گزینوں سے بھری ایک کشتی کے ڈوبنے کے بعد لیبیا میں آج 105 لاشیں برآمد کی گئیں

زوارہ : بحیرہ روم میں پناہ گزینوں سے بھری ایک کشتی کے ڈوبنے کے بعد لیبیا میں آج 105 لاشیں برآمد کی گئیں اور اس واقعہ میں لاپتہ ہوئے تقریباً 100 افراد کی بھی ہلاکت کا اندیشہ ہے۔


لیبیا کے حکام نے بتایا کہ کل دوپہر تک تقریباً 198 افراد کو بچایا گیا تھا۔ اس واقعہ میں بچے شام کے ایک پناہ گزین نے کہا ’کشتی بہت بُری صورتحال میں تھی اور ہمارے ساتھ کے لوگ ڈوب گئے۔ ہمیں مجبوراً اس راستے سے لے جا یا گیا۔ اب اسے بحیرہ روم کی قبر کہا جانے لگا ہے‘۔


حکام کے مطابق کشتی میں افریقہ کے صحرا، پاکستان، شام، مراقش اور بنگلہ دیش کےتھے۔ اٹلی کی ساحلی سلامتی فورس راحت و بچاؤ کام میں ساتھ دے رہے ہیں۔ بچاؤ کام یوروپی یونین کی جانب سے شروع کیا گیا ہے۔


دریں اثنا تارکینِ وطن کی ہلاکتوں پر اقوام متحدہ نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون کا کہنا ہے کہ انسانی زندگیوں کے ضیاع پر وہ ’دلبرداشتہ اور خوفزدہ‘ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تارکین وطن کو ہلاکتوں سے بچانے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔


خیال رہے کہ حالیہ چند دن دنوں میں یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران سینکڑوں افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔مسٹر مون نے اجتماعی طور سیاسی ردعمل کے اظہار کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے متعلقہ ممالک سے نقل مکانی کے محفوظ اور قانونی راستوں کو بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔


واضح رہے کہ جمعرات کو ہنگری سے متصل مشرقی سرحد کے قریب ایک لاوارث ٹرک سے شام سے تعلق رکھنے والے 71 افراد کی لاشیں ملی تھیں جبکہ 200 کے قریب افراد کا لیبیا کے ساحل کے قریب کشتیاں الٹ جانے سے تقریباً 200 افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔


مسٹر مون کا کہنا تھا کہ ’شام، عراق اور افغانستان سے نقل مکانی کرنے والے مہاجرین کی بڑی تعداد یہ خطرناک اور دشوار راستہ اختیار کر رہے ہیں۔ ’عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ ان تنازعات کو سلجھانے اور دیگر مسائل کو حل کرنے میں زیادہ تندہی سے کردار ادا کرے جن کے باعث ان لوگوں کے پاس ملک چھوڑنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔‘


مسٹر بان کی مون نے ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پناہ حاصل کرنے سے متعلق بین الاقوامی قانون کا جائزہ لیں اور ’لوگوں کو ان جگہوں پر واپس بھیجنے پر مجبور نہ کیا جائے جہاں انھیں استحصال کا خطرہ ہے۔۔۔‘ ان کا کہنا تھا کہ یہ محض بین الاقوامی قانون کا مسئلہ نہیں ہے کہ بلکہ یہ بطور انسان ہماری ذمہ داری ہے۔‘


ان کا کہنا تھا: ’یہ ایک انسانی المیہ ہے جس کے لیے ایک فیصلہ کن مجموعی سیاسی ردعمل کی ضرورت ہے۔ یہ یکجہتی کا ایک بحران ہے، نہ کہ اعداد کا بحران۔‘ انہوں نے انسانی اسمگلروں کے خلاف بھی کارروائی کرنے پر زور دیا ہے۔


یاد رہے کہ جمعرات کو لیبیا کے ساحلی شہر زوارہ کے قریب بحیرہ روم میں تارکین وطن کی دوکشتیاں الٹے سے 200 کے قریب افراد کے ڈوب جانے کا خدشہ ہے۔ 100 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ امدادی عملہ مزید 100 لاپتہ افراد کی تلاش کر رہا ہے۔ان کشتیوں میں سوار زیادہ تر افراد شام اور افریقی ممالک سے تھا جبکہ ایک بنگلہ دیشی سفارتکار نے بتایا کہ کم از کم پانچ بنگلہ دیشی شہری ہلاک ہوئے ہیں، جن میں ایک چھ ماہ کا بچہ بھی شامل ہے۔


دریں اثنا اٹلی میں پولیس نے 10 مشتبہ انسانی اسمگلروں کو بھی گرفتار کیا ہے۔ادھر ہنگری میں پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے آسٹریا میں ایک ٹرک سے 71 تارکینِ وطن کی لاشوں کی برآمدگی کے معاملے میں چار افراد کو حراست میں لیا ہے۔


پولیس کے مطابق اس معاملے میں گرفتار کیے گئے افراد میں تین بیلجیئم اور ایک افغانستان کا شہری ہے۔ یہ ٹرک ویانا جانے والی مرکزی سڑک کے کنارے پانڈارف قصبے کے قریب پایا گیا اور خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ بدھ سے یہاں کھڑا تھا، لیکن اس کے بارے میں جمعرات کو علم ہوا۔


حکام نے اس ٹرک کو مزید معائنے کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا تھا اور انھوں نے کل بتایا کہ مرنے والوں میں 59 مرد، آٹھ خواتین اور چار بچے شامل ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ یہ افراد ٹرک کی دریافت سے ڈیڑھ سے دو دن پہلے ہلاک ہو چکے تھے اور ان کے جسم گلنا سڑنا شروع ہو گئے تھے۔

First published: Aug 29, 2015 10:22 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading