ہوم » نیوز » عالمی منظر

عراق میں موجود تمام 25،000 ہندوستانی محفوظ، کسی کو بھی وہاں جانے کی اجازت نہیں

اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ سفارت کار جو کہ ہندوستان کے شہری ہیں، کے مطابق ابھی تک عراق میں کہیں بھی ہندوستانی شہریوں کو کسی قسم کے نقصان پہنچنے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

  • Share this:
عراق میں موجود تمام 25،000 ہندوستانی محفوظ، کسی کو بھی وہاں جانے کی اجازت نہیں
عراق میں امریکی ایئر بیس پر حملہ، ایران نے داغی 1درجن سے زیادہ میزائیلیں

بنگلورو۔ عراقی سرزمین پر امریکہ اور ایران کے مابین جنگ کے امکان سے عراق میں ہندوستانی برادری میں تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ سفارت کار جو کہ ہندوستان کے شہری ہیں، کے مطابق ابھی تک عراق میں کہیں بھی ہندوستانی شہریوں کو کسی قسم کے نقصان پہنچنے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ عراق بھر میں تقریبا 25،000 ہندوستانی بنیادی طور پر بنیادی ڈھانچے اور تیل کے شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔ کردستان کے شمالی خودمختار خطے کے دارالحکومت اربیل میں ہندوستانیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے جن کی اکثریت کاروبار میں مصروف عمل ہے۔


بنیادی ڈھانچے اور تیل سے متعلق فرموں میں مصروف غیر ہنرمند کارکنان قومی راجدھانی بغداد اور جنوبی بندرگاہی شہر بصرہ میں کام کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سفارت کار نے بغداد سے ٹیلی فون پر نیوز 18 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’صورتحال کشیدہ ہے۔ ہر طرف خوف و ہراس طاری ہے۔ لیکن میں اس بات کی تصدیق کرسکتا ہوں کہ تمام ہندوستانی محفوظ ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’مجھے بغداد میں ہندوستان کے سفیر اور عراقی حکومت دونوں سے تصدیق ملی ہے۔ اقوام متحدہ بھی اس صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے‘‘۔


اقوام متحدہ نے غیر رسمی طور پر عراق میں ہندوستان کے سفیر کو مشورہ دیا ہے کہ جب تک صورتحال معمول پر نہ آ جائے اس وقت تک وہ کسی بھی ہندوستانی کو وہاں جانے کی اجازت نہ دیں۔ مشن اب بھی صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے اور جلد ہی اس بارے میں کوئی فیصلہ لے گا۔ انہوں نے بتایا کہ تیل اور بنیادی ڈھانچہ کے شعبہ میں کام کرنے والے کچھ ہی لوگ اچھی تنخواہ پاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بقیہ سبھی لوگ نیم۔ ہنرمند اور غیر ہنرمند ملازمین ہیں۔




انہوں نے کہا کہ ’’ بڑی تعداد میں ہندوستانی اربیل میں ہیں۔ کچھ خوشحال ہیں کیونکہ وہ برآمدات اور درآمدات کا کاروبار کر رہے ہیں۔ کچھ پیشہ ور افراد بھی وہاں ہیں۔ کردستان ایک محفوظ خطہ ہے۔ لیکن اربیل کے قریب امریکی اڈے پر ایران نے حملہ کیا ہے۔ اس سے تناؤ پیدا ہوسکتا ہے اور جان و مال کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ ایک تشویشناک امر ہے‘‘۔

عراق کے شہر موصل میں دولتِ اسلامیہ یا داعش کے ذریعہ 2014 میں تقریبا 40 ہندوستانیوں کا وحشیانہ قتل کر دیا گیا تھا اور کئی لاپتہ ہو گئے تھے، اس کے بعدعراق میں کہیں بھی ہندوستانیوں پر کوئی حملہ نہیں ہوا ہے۔عراق میں تعینات سفارت کار نے اندیشہ ظاہر کیا کہ اگر صورت حال بگڑتی ہے اور جنگ ہوتی ہے تو آئی ایس آئی ایس کی واپسی ہو سکتی ہے۔

سفارت کار نے کہا کہ ’’اب ایسا لگتا ہے کہ عراق میں بڑے پیمانہ پر تصادم شروع ہوسکتا ہے۔ امریکی سفارت خانہ پر 4 جنوری اور 5 جنوری کی رات کو کٹیوشا میزائل سے حملے کئے گئے۔ 6 جنوری کی رات پرسکون تھی، لیکن عراق پریشان، البتہ پرسکون تھا۔ 7 جنوری کو میں بغداد سے تکریت 180 کلومیٹر شمال میں نکل گیا تھا - تکریت کی صورت حال نازک بنی ہوئی ہے اور یہ صورتحال کسی بھی وقت بگڑ سکتی ہے۔ منگل کی علی الصبح مغربی عراق میں واقع الاسد امریکی ہوائی اڈے پر جدید قسم کی میزائلوں سے حملے کئے گئے۔ یہ جگہ بغداد اور اربیل کے کردش علاقہ میں موجود امریکی ائیربیس سے 200 کلومیٹر دور ہے۔ اربیل کو لوگوں کو نکالنے کے لئے ایک محفوظ علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ ان علاقوں پر ایرانی حملے ہو رہے ہیں۔ اب تصادم گہرا ہوتا جارہا ہے اوربراہ راست تصادم کی صورت حال پیش آ سکتی ہے‘‘۔

ڈی پی ستیش کی رپورٹ
First published: Jan 08, 2020 12:11 PM IST