உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پولیس کا دعوی ، برسیلز ایئر پورٹ پر بڑی تعداد میں داعش حامی کررہے ہیں کام

    لندن : بیلجیم میں ہوئے خودکش حملے کے بعد پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ بروسیلز ہوائی اڈے پراب بھی خطرناک دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ (داعش)کے کم از کم 50 حامی بیگیج ہینڈلر ،صفائی ملازمین اور کیٹرنگ اسٹاف کے طورپر کام کر رہے ہیں۔

    لندن : بیلجیم میں ہوئے خودکش حملے کے بعد پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ بروسیلز ہوائی اڈے پراب بھی خطرناک دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ (داعش)کے کم از کم 50 حامی بیگیج ہینڈلر ،صفائی ملازمین اور کیٹرنگ اسٹاف کے طورپر کام کر رہے ہیں۔

    لندن : بیلجیم میں ہوئے خودکش حملے کے بعد پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ بروسیلز ہوائی اڈے پراب بھی خطرناک دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ (داعش)کے کم از کم 50 حامی بیگیج ہینڈلر ،صفائی ملازمین اور کیٹرنگ اسٹاف کے طورپر کام کر رہے ہیں۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      لندن : بیلجیم میں ہوئے خودکش حملے کے بعد پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ بروسیلز ہوائی اڈے پراب بھی خطرناک دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ (داعش)کے کم از کم 50 حامی بیگیج ہینڈلر ،صفائی ملازمین اور کیٹرنگ اسٹاف کے طورپر کام کر رہے ہیں۔
      برطانوی روزنامہ ’’ڈیلی میل‘‘ میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بیلجیم کے ایئر پورٹ کے ایک پولس افسر نے کھلا خط لکھتے ہوئے اس کے بارے میں سب کو آگاہ کیاہے۔افسروں نے بتایا کہ دہشت گرد تنظیم کے حامی کے بارےمیں وارننگ دے دی گئی ہے،جو اپنے سکیورٹی بیچ کی وجہ سے طیارے تک اپنی پہنچ رکھتے ہیں لیکن اس وارننگ کے باوجود یہ نوکری پر موجود ہیں۔ایئر پورٹ پولس کا کہنا ہے کہ ان کی وارننگ پر اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔
      حفاظتی انتظامات کے معیار کی کمی کی وجہ سے ہڑتال پر جانے کی دھمکی دینے والی ایئر پورٹ پولس کا کہنا ہے کہ ممکنہ حملوں کو انجام دینے کے مقصد سے ہوائی اڈے کی ریکی کرنے والے دولت اسلامیہ کے حامیوں کا مسئلہ انہوں نے اٹھایا ہے۔ چند دن پہلے ہی اس سے متعلق رپورٹ آئ تھی کہ بروسیلز میں حملہ کرنے والوں میں شامل دو ہشت گردوں نے ایئر پورٹ پر صٖفائی ملازمین کے طور پر کام کیا تھا۔
      پولس نے جن ملازمین کی معتبریت پر سوال اٹھاہے،ان میں سے چند نے گزشتہ سال نومبر میں پیرس میں حملے کے بعد جشن منایا تھا۔پیرس حملے میں 130لوگ مارے گئے تھے۔ان ملازمین کی جب جانچ کی گئی تو پایا گیا کہ یہ انتہا پسند نظریات والے ہیں اور ان کے خلاف مجرمانہ معاملے بھی درج ہیں۔

      First published: