உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغانستان: طالبان کے ٹھکانوں کو بنایا گیا نشانہ، فضائیہ کے ہوائی حملے میں 25 طالبان ہلاک

    طالبان کے ٹھکانوں کو بنایا گیا نشانہ، فضائیہ کے ہوائی حملے میں 25 طالبان ہلاک

    افغانستان کے وزارت دفاع نے اتوار کے روز کہا کہ ہلمند صوبے میں طالبان جنگجوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر کیے گئے ہوائی حملوں میں 25 جنگجو مارے گئے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:




      کابل: افغانستان کے وزارت دفاع نے اتوار کے روز کہا کہ ہلمند صوبے میں طالبان جنگجوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر کیے گئے ہوائی حملوں میں 25 جنگجو مارے گئے۔ وزارت دفاع کے بیان کے مطابق جنگی طیاروں نے ہفتے کی دیر رات ناد علی اور سنگین اضلاع کے کچھ حصوں میں طالبان جنجگوؤں کے ٹھکانوں پر حملہ کیا جس میں 25 مسلح طالبان مارے گئے۔


      انہوں نے کہا کہ ہوائی حملے میں مسلح گروہ کے ہتھیاروں کا ذخیرہ بھی تباہ ہو گیا ہے۔ طالبان کی جانب سے اس بابت ابھی تک کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ قبل ازیں افغانستان سلامتی دستوں نے ہفتے کے روز شمالی بلخ صوبے کے کالدار اور چمتال اضلاع میں 81 جنگجوؤں کو ڈھیر کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

      امریکہ کی طالبان سے 'سنجیدہ مذاکرات' میں شامل ہونے کی اپیل کی


      واشنگٹن: امریکہ نے طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغان حکومت کے ساتھ "سنجیدہ مذاکرات" میں شامل ہوں۔ امریکہ نے یہ اپیل ان (طالبان) کے ان ریمارکس کے بعد کی تھی جب تک کہ افغانستان میں نئی ​​حکومت سے معاہدہ نہیں ہونے تک جنگ بندی اور امن پر اتفاق نہیں کریں گے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی نائب ترجمان جیلینا پورٹر نے بتایا کہ "ہم طالبان سے افغانستان کے مستقبل کے لئے ایک سیاسی روڈ میپ طے کرنے کے لئے 'سنجیدہ مذاکرات' میں شامل ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں اور جس کے ذریعہ ایک منصفانہ اور دیرپا حل نکل سکے۔


      جیلینا پورٹر نے یہ بھی کہا کہ افغانستان تنازعہ میں امریکیوں کے ساتھ کام کرنے والے افغانیوں کے خلاف تشدد کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ "ترجمانوں اور دیگر افغانیوں کے خلاف تشدد اور مظالم کی حالیہ اطلاعات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی طالبان انسانی جان اور انسانی حقوق کا بہت کم احترام کر رہی ہیں۔" ہم ان ہدف بنا کر کئے گئے حملوں، اہم انفراسٹرکچر کی تباہی کے ساتھ ساتھ افغانستان کے عوام پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔" واضح رہے کہ حال ہی میں طالبان کے ترجمان اور اس گروپ کی مذاکراتی ٹیم کے رکن سہیل شاہین نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ طالبان اپنے ہتھیار ڈال دے گا، جب ملک میں ایک قابل قبول مذاکراتی حکومت قائم ہوگی۔






      Published by:Nisar Ahmad
      First published: