உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    تاجکستان میں افغانستان سفارت خانہ نے اکھاڑ پھینکی اشرف غنی کی تصویر، امراللہ صالح کو بتایا صدر

    Afghanistan Crisis: تاجکستان افغانستان سے متصل ملک ہے اور امراللہ صالح بھی تاجکستان نژاد ہیں۔ اس اعلان کے بعد طالبان کا پارہ چڑھنا طے مانا جا رہا ہے۔

    Afghanistan Crisis: تاجکستان افغانستان سے متصل ملک ہے اور امراللہ صالح بھی تاجکستان نژاد ہیں۔ اس اعلان کے بعد طالبان کا پارہ چڑھنا طے مانا جا رہا ہے۔

    Afghanistan Crisis: تاجکستان افغانستان سے متصل ملک ہے اور امراللہ صالح بھی تاجکستان نژاد ہیں۔ اس اعلان کے بعد طالبان کا پارہ چڑھنا طے مانا جا رہا ہے۔

    • Share this:
      دوشانبے: افغانستان میں طالبان کے آنے کے بعد حالات بے حد مایوس کن ہوگئے ہیں۔ حالانکہ، صدر اشرف غنی کے ملک چھوڑنے کے بعد نائب صدر امراللہ صالح نے خود کو ملک کا کیئر ٹیکر صدر اعلان کر دیا ہے۔ امراللہ صالح کے اعلان کا اثر تاجکستان میں بھی نظر آیا۔ تاجکستان کی راجدھانی دوشانبے واقع افغانستان کے سفارت خانہ نے اشرف غنی کی تصویر کو اکھاڑ پھینکا ہے۔ ان کی جگہ پر اب امراللہ صالح کی تصویر لگا دی ہے۔ اس کے بغل میں پنج شیر صوبہ کے شیر کہے جانے والے کمانڈر احمد شاہ مسعود کی بھی تصویر لگائی گئی ہے۔



      تاجکستان افغانستان سے متصل ملک ہے اور امراللہ صالح بھی تاجکستان نژاد ہیں۔ اس اعلان کے بعد طالبان کا پارہ چڑھنا طے مانا جا رہا ہے۔

      واضح رہے کہ امراللہ صالح نے ناردن الائنس کی طرح افغان شہریوں سے طالبان کی مخالفت میں کھڑے ہونے کی بھی اپیل کی ہے۔ امراللہ صالح نے ٹوئٹ کر کے کہا کہ افغانستان کے آئین کے مطابق، صدر کی عدم موجودگی، منتقلی، استعفیٰ یا موت ہوجانے کی صورت میں نائب صدر، صدر بن جاتا ہے۔ میں موجودہ وقت میں اپنے ملک کے اندر ہوں اور قانونی دیکھ بھال کرنے والا صدر ہوں۔ میں سبھی لیڈروں سے ان کی حمایت اور عام رضا مندی کے لئے رابطہ کر رہا ہوں۔

      کون ہیں امراللہ صالح

      کم عمر میں یتیم ہوئے امراللہ صالح گورلا کمانڈر مسعود کے ساتھ 1990 کے وقت لڑائی لڑی۔ اس کے بعد انہوں نے افغانستان حکومت میں اپنی خدمات دیں۔ امراللہ صالح نے بتایا کہ شدت پسندوں نے انہیں پکڑنے کے لئے ان کی بہن پر تشدد کیا تھا۔ گزشتہ سال ٹائم میگزین میں لکھے کالم میں انہوں نے بتایا، ’1996 میں جو ہوا، اس کے بعد طالبان کو لے کر میرا نظریہ ہمیشہ کے لئے بدل گیا‘۔ 11 ستمبر 2001 کو ہوئے حملے کے بعد امراللہ صالح سی آئی اے کے لئے اہم کڑی بن گئے تھے۔ اسی ضمن میں افغانستان میں تشکیل دی گئی نئی خفیہ ایجنسی نیشنل سیکورٹی ڈائریکٹوریٹ (این ڈی ایس) تک پہنچ کے لئے ان کا راستہ تیار کیا۔ مانا جاتا ہے کہ این ڈی ایس سربراہ کے طور پر امراللہ صالح نے شورش پسند گروپوں کے اندر اور سرحد پار پاکستان میں مخبروں اور جاسوسوں کا بڑا نیٹ ورک تیار کیا تھا۔ ان کی طرف سے جمع کی گئی خفیہ اطلاع اس بات کا ثبوت ملا کہ پاکستان کی فوج نے طالبان کی حمایت کرنا جاری رکھا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: