உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغانستان سیکورٹی فورسیز کا طالبان پر بڑا حملہ، 48 گھنٹے مں تقریباً 300 طالبانی جاں بحق

    افغانستان کا طالبان پر بڑا حملہ، 48 گھنٹے مں تقریباً 300 طالبانی جاں بحق

    افغانستان کا طالبان پر بڑا حملہ، 48 گھنٹے مں تقریباً 300 طالبانی جاں بحق

    Afghanistan Vs Taliban: افغان وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ طالبان نے 193 سے زیادہ اضلاع مراکز اور 19 سرحدی اضلاع پر قبضہ کرلیا ہے۔

    • Share this:
      کابل: افغانستان (Afghanistan) کی فوج نے طالبان (Taliban) کے مبینہ جنگجووں پر بڑا حملہ کیا ہے۔ افغانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 48 گھنٹے کے دوران اس نے تقریباً 300 طالبانی جنگجووں کو مار گرایا۔ واضح رہے کہ امریکی اور ناٹو فوج کے افغانستان سے ہٹنے کے بعد طالبان کی طاقت میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ حال کے دنوں میں طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے افغانستان کے بیشتر علاقوں پرقبضہ کرلیا ہے، لیکن اب افغانستان کی زبردست کارروائی نے طالبان کے حوصلے پست کر دیئے ہیں۔

      افغانستان کے وزارت دفاع کی طرف سے ٹوئٹ کرکے اطلاع دی گئی ہے کہ افغانستان افغانستان نیشنل ڈیفنس اینڈ سیکورٹی فورسیز (اے این ڈی ایس ایف) کی طرف سے کارروائی میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 254 طالبانی جنگجووں کو مار گرایا گیا ہے جبکہ 97 زخمی ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ اے این ڈی ایس ایف نے 13 آئی ای ڈی کو بھی تباہ کیا ہے۔ یہ حملہ غزنی، قندھار، ہیرات، فراح، جووجان، بلخ، سمانگن، ہیلمند، تخر، کندج، بگلان، کابل اور کپیسا صوبوں میں کئے گئے۔

      افغانستان کے وزارت دفاع کی جانب سے کیا گیا ٹوئٹ۔
      افغانستان کے وزارت دفاع کی جانب سے کیا گیا ٹوئٹ۔


      وزارت دفاع نے یہ بھی کہا کہ ہفتہ کی راشت پکتکا صوبہ کے برمل ضلع میں اے این ڈی ایس ایف کے ذریعہ کئے گئے ایک آپریشن میں چار پاکستانیوں سمیت 12 طالبان جنگجو مارے گئے اور 9 دیگر زخمی ہوگئے۔ ایک دیگر ٹوئٹ میں کہا گیا کہ پنجوے ضلع اور قندھار صوبہ مرکز کے باہری علاقے میں 11 دیگر جنگجو مارے گئے۔

      کئی علاقوں میں قبضے کا دعویٰ

      حال کے دنوں میں افغانستان میں تشدد میں کافی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ طالبان نے افغان سیکورٹی اہلکاروں اور شہریوں کے خلاف اپنے حملے تیز کر دیئے ہیں اور کئی اضلاع پر قبضہ کرلیا ہے۔ افغان وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ طالبان نے 193 سے زیادہ اضلاع مراکز اور 19 سرحدی اضلاع پر قبضہ کرلیا ہے۔ طالبان نے تخر، کندوج، بدخشاں، ہیرات اور فراح صوبوں میں 10 سرحد پار کرنے والے پوائنٹس پر بھی کنٹرول کرلیا ہے، جس کے سبب ان علاقوں میں سرحد پار سے آمدورفت اور تجارت پوری طرح سے بند ہوگیا ہے۔

      طالبان نے افغان سیکورٹی اہلکاروں اور شہریوں کے خلاف اپنے حملے تیز کر دیئے ہیں اور کئی اضلاع پر قبضہ کرلیا ہے۔
      طالبان نے افغان سیکورٹی اہلکاروں اور شہریوں کے خلاف اپنے حملے تیز کر دیئے ہیں اور کئی اضلاع پر قبضہ کرلیا ہے۔


      اشرف غنی نے امریکہ سے متعلق کہی یہ بڑی بات

      افغانستان کے صدر اشرف غنی نے ملک میں طالبان کے بڑھتے ہوئے کنڑول کی ذمہ داری امریکہ پر عائد کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے ’جلدبازی‘ میں انخلا کے نتیجے میں سیکورٹی کی بدترین صورتحال ہے۔ یہ الزام انہوں نے افغان پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے لگایا۔ غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، افغان پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ ’جو موجودہ صورتحال ہے اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ امریکہ نے جلدبازی میں افغانستان سے فوجی انخلا کیا ہے۔ انہوں نے واشنگٹن کو خبردار کیا کہ مکمل انخلا کے’سنگین نتائج‘ ہوں گے۔ دوسری جانب افغان آرمی نے بتایا کہ جنوبی اور مغربی حصے کے تین صوبوں میں سیکورٹی کی صورتحال ’انتہائی نازک‘ ہے، جہاں طالبان اور افغان فورسز کے مابین تصادم مزید تیزی اختیار کرچکی ہیں۔ طالبان نے حالیہ حملے میں متعدد اضلاع کا کنٹرول حاصل کرلیا جبکہ اب جنگجوؤں کی پیش قدمی صوبائی دارالحکومتوں کی جانب ہے۔

      Published by:Nisar Ahmad
      First published: