உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    طالبان کے ڈر سے کانپ رہی ہیں افغان لڑکیاں، اغوا کرکے بناتے ہیں سیکس سلیو، روزانہ کرتے ہیں یہ گھنونا کام

     افغانستان (Afghanistan Taliban)  میں چل رہے خوفناک کھیل میں سب سے زیادہ سہمی ہوئی یہ لڑکیاں ہی ہیں جنہوں نے آزادی کا سورج قریب۔قریب دیکھ ہی لیا تھا کہ طالبان کی اندھیری رات پھر ان کے خواب کچلنے لگی ہے۔

    افغانستان (Afghanistan Taliban) میں چل رہے خوفناک کھیل میں سب سے زیادہ سہمی ہوئی یہ لڑکیاں ہی ہیں جنہوں نے آزادی کا سورج قریب۔قریب دیکھ ہی لیا تھا کہ طالبان کی اندھیری رات پھر ان کے خواب کچلنے لگی ہے۔

    افغانستان (Afghanistan Taliban) میں چل رہے خوفناک کھیل میں سب سے زیادہ سہمی ہوئی یہ لڑکیاں ہی ہیں جنہوں نے آزادی کا سورج قریب۔قریب دیکھ ہی لیا تھا کہ طالبان کی اندھیری رات پھر ان کے خواب کچلنے لگی ہے۔

    • Share this:
      جن لڑکیوں  (Afghan Girls)  کو مستقبل کے خوبسورت خواب دکھائی دینے لگے تھے انہیں آج دن کے اجالے میں بھی برے خواب ہی نظر آرہے ہیں۔ افغانستان (Afghanistan Taliban)  میں چل رہے خوفناک کھیل میں سب سے زیادہ سہمی ہوئی یہ لڑکیاں ہی ہیں جنہوں نے آزادی کا سورج قریب۔قریب دیکھ ہی لیا تھا کہ طالبان کی اندھیری رات پھر ان کے خواب کچلنے لگی ہے۔ لڑکیوں کے ذہن میں صرف ایک ہی ڈر (Scared Afghan Girls) ہے کہ کہیں گھر سے اٹھاکر انہیں طالبان اپنی بے انتہا درندگی کا شکار نہ بنالیں۔

      افغانستان  (Afghan Girl Video)  کی ایک ایسی ہی لڑکی کا ویڈیو ٹویٹر پر اس وقت زبردست وائرل ہو رہا ہے۔ 45  سیکنڈ کے اس ویڈیو میں آپ خوف کو اپنی نسوں میں محسوس کرلیں گے۔ ذرا سوچئے اسکول۔کالج اور کریئر کے بارے میں سوچنے والی ان لڑکیوں کے سامنے ریپ اور سیکس سلیو  (Afghan Girls rape and sex slave) جیسے طالبانی زندہ ہو اٹھے ہیں اور ان سے بچانے والا کوئی بھی نہیں ہے۔ نہ کوئی تنظیم، نہ کوئی ملک اور نہ کوئی انتظامیہ اور حکومت۔

       



      افغان لڑکی کے آنسوؤں نے دکھائی خوف کی تصویر۔۔۔
      ایکٹوسٹ مسیح علی نیجاد کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے شیئر کئے گئے ویڈیو میں ایک افغانی لڑکی جس طرح بے بسی کے آنسو روتی ہوئی نظر آرہی ہے اسے دیکھ کر آپ کا کلیجا بھی کانپ اٹھے گا۔ 45 سیکنڈ کی کلپ میں لڑکی کے چپرے پر ہزار بھاؤ آتے جاتے نظر آرہے ہیں۔ مانو اسے اپنا بھی مستقبل نہیں نقاب پوش لڑکیوں میں نظر آرہا ہے جنہیں طالبان جانوروں کی طرح سمجھتے ہیں۔ لڑکی روتے ہوئے بتاتی ہے کہ اس کا جرم صرف اتنا ہے کہ وہ افغانستان میں پیدا ہوئی ہے۔ ہماری گنتی ہی نہیں ہوتی کیونکہ ہم افغانی لڑکیاں ہیں۔ میں صرف رو سکتی ہوں کیونکہ ہم تاریخ میں دھیرے۔دھیرے مر رہے ہیں۔ کسی کو بھی ہماری پرواہ نہیں ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: