உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغان حکومت کا دعویٰ- افغانستان میں 20 غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں کر رہی ہیں طالبان کی مدد

    افغان حکومت کا دعویٰ- افغانستان میں 20 غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں کر رہی ہیں طالبان کی مدد

    افغان حکومت کا دعویٰ- افغانستان میں 20 غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں کر رہی ہیں طالبان کی مدد

    اقوام متحدہ میں افغانستان کے سفیر غلام ایم اسحاق زئی نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ 20 غیر ملکی تنظیموں کے 10 ہزار سے زائد دہشت گرد اس وقت ملک میں طالبان عسکریت پسندوں کی مدد کر رہے ہیں۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      اقوام متحدہ: اقوام متحدہ میں افغانستان کے سفیر غلام ایم اسحاق زئی نے کہا ہے کہ طالبان افغانستان میں اکیلے کام نہیں کر رہا ہے، بلکہ اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) اور القاعدہ سمیت 20 غیر ملکی تنظیموں اس کی حمایت کررہی ہیں۔ اسحاق زئی نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ 20 غیر ملکی تنظیموں کے 10 ہزار سے زائد دہشت گرد اس وقت ملک میں طالبان عسکریت پسندوں کی مدد کر رہے ہیں۔
      انہوں نے کہا کہ اس بات کے پختہ شواہد موجود ہیں کہ مشرقی ترکستان اسلامی تحریک اور ازبکستان کی اسلامی تحریک طالبان کے ساتھ فاریاب ، جوزجان ، تخار اور بدخشاں صوبوں میں لڑے جہاں وہ اپنے خاندانوں کے ساتھ اس وقت طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں میں موجود ہیں." ایک بیان میں ، انہوں نے افغانستان کے وزیر خارجہ کی جانب سے کہا ، "طالبان اور ان بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں کے درمیان تعلقات حالیہ دنوں کے مقابلے میں اس وقت مضبوط ترین سطح پر ہیں۔"




      اقوام متحدہ میں افغانستان کے سفیر  غلام اسحاق زئی نے سلامتی کونسل کو بتایا، ’طالبان کو پاکستان ایک محفوظ پناہ گاہ مہیا کرا رہا ہے اور پاکستان ان کی جنگی مشین تک فراہمی اور رسد لائن پہنچاتا ہے۔
      اقوام متحدہ میں افغانستان کے سفیر غلام اسحاق زئی نے سلامتی کونسل کو بتایا، ’طالبان کو پاکستان ایک محفوظ پناہ گاہ مہیا کرا رہا ہے اور پاکستان ان کی جنگی مشین تک فراہمی اور رسد لائن پہنچاتا ہے۔

      پاکسان پر لگایا بڑا الزام


      اقوام متحدہ میں افغانستان کے سفیر نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ طالبان کو پاکستان سے محفوظ پناہ گاہ، جنگی مشینوں تک سہولیات کی فراہمی اور رسد لائن کی سہولیات مل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ان کے ملک میں جنگ کو ختم کرنے کے لئے پاکستان کے ساتھ ایک کوآپریٹو تعلقات قائم کرنے کی سمت میں اعتماد مزید کم ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ میں افغانستان کے مستقل رکن غلام اسحاق زئی نے کہا کہ افغانستان میں داخل ہونے کے لئے ڈورنڈ لائن کے قریب طالبان جنگجووں کو جمع ہونے اور پاکستانی اسپتالوں میں زخمی طالبان جنگجووں کے علاج کی تصاویر اور ویڈیو بڑے پیمانے پر دستیاب ہیں۔

      اقوام متحدہ میں افغانستان کے سفیر  غلام اسحاق زئی نے سلامتی کونسل کو بتایا، ’طالبان کو پاکستان ایک محفوظ پناہ گاہ مہیا کرا رہا ہے اور پاکستان ان کی جنگی مشین تک فراہمی اور رسد لائن پہنچاتا ہے۔ غلام اسحاق زئی نے کہا کہ ’یہ نہ صرف 1988 کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندی حکم کی ایک زبردست خلاف ورزی ہے، بلکہ افغانستان میں جنگ کو ختم کرنے کے لئے پاکستان کے ساتھ کوآپریٹو تعلقات قائم کرنے کی سمت میں اعتماد کو مزید کم کرتا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: