உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    طالبان کی بڑھتی پیش قدمی اور صوبائی راجدھانیوں پر قبضے کے بعد افغان حکومت کی اقتدار میں شراکت کی پیشکش

    طالبان کی بڑھتی پیش قدمی اور صوبائی راجدھانیوں پر قبضے کے بعد افغان حکومت کی اقتدار میں شراکت کی پیشکش

    طالبان کی بڑھتی پیش قدمی اور صوبائی راجدھانیوں پر قبضے کے بعد افغان حکومت کی اقتدار میں شراکت کی پیشکش

    خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اہم حکومتی ذرائع کے مطابق ملک میں بڑھتے ہوئے تشدد کو روکنے کے لیے افغان حکومت نے طالبان کو شراکت اقتدار کی پیشکش کی ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      کابل : افغانستان میں طالبان کی بڑھتی ہوئی پیش قدمی اور یکے بعد دیگرے صوبائی راجدھانیوں پر قبضے کے درمیان افغان حکومت نے طالبان کو اقتدار میں حصہ داری کی پیش کش کی ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اہم حکومتی ذرائع کے مطابق ملک میں بڑھتے ہوئے تشدد کو روکنے کے لیے افغان حکومت نے طالبان کو شراکت اقتدار کی پیشکش کی ہے۔

      قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اقتدار میں شراکت کی یہ پیشکش قطر کے ذریعے کی گئی ہے ، جو افغان امن مذاکرات کی میزبانی بھی کررہا ہے۔ ادھر قطر میں جاری مذاکرات کا تیسرا اور آخری دن شروع ہوگیا ہے ۔ تاہم اب تک ہونے والے مذاکرات میں کسی بھی قسم کی پیشرفت نہیں ہوئی ۔ البتہ افغان حکومت کے نمائندے آج اس حوالے سے پیشرفت کے لیے پرامید ہیں ۔ ان مذاکرات میں افغانستان اور طالبان کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ، پاکستان، ازبکستان، امریکہ، برطانیہ، چین اور یورپی یونین کے سفارتی حکام بھی شریک ہیں۔

      دریں اثناء صوبہ ہیلمند کے دارالحکومت لشکرگاہ میں لڑائی عروج پر ہے اور طالبان نے وہاں کے پولیس ہیڈ کوارٹر پر قبضہ کر لیا ہے اور وہاں موجود پولیس اہلکاروں نے ہتھیار ڈال دئے ہیں ۔ دوسری جانب طالبان نے کابل سے صرف 150 کلومیٹر کے فاصلے پر افغانستان کے اسٹریٹجک شہر غزنی کا کنٹرول حاصل کرلیاہے۔ یہ شہر ایک ہفتے میں طالبان کے قبضے میں آنے والا 10 واں صوبائی دارالحکومت ہے جو اہم کابل-قندھار شاہراہ کے ساتھ واقع ہے اور دارالحکومت اور جنوب میں طالبان کے گڑھ کے درمیان ایک گیٹ وے کے طور پر کام کرتا ہے۔

      صوبہ ہیلمند کے دارالحکومت لشکرگاہ میں لڑائی عروج پر ہے
      صوبہ ہیلمند کے دارالحکومت لشکرگاہ میں لڑائی عروج پر ہے ۔


      صوبہ میدان ورک میں غزنی کے گورنر کو بھی طالبان نے گرفتار کر لیا ہے ، جہاں اس سے قبل ان کے صوبے سے فرار ہونے کا ویڈیو منظر عام پر آیا تھا ۔  واضح رہے کہ افغان تنازع مئی سے ڈرامائی طور پر بڑھ گیا ہے جب امریکی قیادت میں بین الاقوامی افواج نے 20 سال کے قبضے کے بعد رواں ماہ کے آخر میں فوجی دستوں کی واپسی کا آخری مرحلے کا آغاز کردیا ہے۔

      وہیں ڈان کی رپورٹ کے مطابق غزنی کے بعد ممکنہ طور پر ملک کی پہلے سے دباؤ کا سامنا کرنے والے فضائیہ پر مزید دباؤ پڑے گا ، جو افغانستان کی بکھرے ہوئے سیکورٹی فورسز کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے۔ ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں طالبان نے 10 صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا ہے اور اب شمال کے سب سے بڑے شہر مزار شریف کے روایتی طالبان مخالف گڑھ کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

      بدھ کی رات طالبان نے قندھار میں جیل پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ 'ایک طویل محاصرے کے بعد مکمل طور پر فتح کرلیا گیا ہے اور اس میں سے سینکڑوں قیدیوں کو رہا کر کے محفوظ مقام پر پہنچا دیا گیا'۔ طالبان اکثر جیلوں کو نشانہ بناتے ہیں ۔ تاکہ قید جنگجوؤں کو رہا کیا جائے اور ان کی صفوں کو بھرا جاسکے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: