உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    EXCLUSIVE: طالبان نے کہا- کابل میں ابھی عبوری حکومت، اندرونی معاملات میں کسی بھی ملک کی مداخلت برداشت نہیں

    طالبان نے کہا- کابل میں ابھی عبوری حکومت، اندرونی معاملات میں کسی بھی ملک کی مداخلت برداشت نہیں

    طالبان نے کہا- کابل میں ابھی عبوری حکومت، اندرونی معاملات میں کسی بھی ملک کی مداخلت برداشت نہیں

    سی این این- نیوز 18 کے ساتھ ایک انٹرویو میں طالبان (Taliban) کے ترجمان محمد سہیل شاہین (Mohammad Suhail Shaheen) نے طالبان کے شریک بانی اور نئے نائب وزیر اعظم ملا عبدالغنی برادر کے مبینہ ’قتل‘، افغان خواتین کے حقوق اور حکومت میں پاکستان کی ’مداخلت‘ کی رپورٹس پر کھل کر بات کی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی/کابل: افغانستان (Afghanistan government) میں بنی نئی حکومت میں حکومت میں شمولیت پر اٹھ رہے سوالات کے درمیان طالبان (Taliban) کے ترجمان محمد سہیل شاہین (Mohammad Suhail Shaheen) نے پیر کو سی این این-نیوز 18 کو بتایا کہ موجودہ افغانستان حکومت ایک عارضی حکومت ہے۔ یہ حکومت لوگوں کو ضروری خدمات فراہم کرنے کے لئے ’فوری طور پر‘ بنائی گئی ہے۔

      سی این این- نیوز 18 کے ساتھ ایک انٹرویو میں طالبان کے ترجمان محمد سہیل شاہین نے طالبان کے شریک بانی اور نئے نائب وزیر اعظم ملا عبدالغنی برادر کے مبینہ ’قتل‘، افغان خواتین کے حقوق اور حکومت میں پاکستان کی ’مداخلت‘ کی رپورٹس پر کھل کر بات کی۔

      یہاں پڑھیں اس انٹرویو کے خاص نکات

      سوال: ملا عبدالغنی برادر کے قتل کے بارے میں بہت ساری افواہیں ہیں۔ مشہور چینلوں کی طرف سے ویڈیو اور اسکرین شاٹ پوسٹ کئے جا رہے ہیں۔ اس پر آپ کا کیا خیال ہے؟

      جواب: یہ افواہیں ہیں، میں نے ان سے رابطہ کیا ہے اور وہ سفر پر ہیں۔ ملا عبدالغنی برادر ٹھیک ہیں اور میں ان سبھی افواہوں کی واضح طور پر تردید کرتا ہوں۔

      سوال: تو آپ نے ملا عبدالغنی برادر سے بات کی ہے؟

      جواب: ہاں، ہاں، اس کے سکریٹری سے بات ہوئی ہے۔

      سوال: آپ کی حکومت ابھی بنی ہے اور اس کے غیر شمولیت ہونے کی بہت بحث ہو رہی ہے۔ اس کے لئے آپ کی کیا وضاحت ہے؟

      جواب: یہ پوری طرح سے ہماری حکومت نہیں ہے، بلکہ ایک عارضی حکومت ہے۔ اس کی بہت ضرورت تھی۔ لوگوں کو فوری ضروری خدمات فراہم کرنا تھا۔ اس لئے ہماری قیادت نے کچھ وزارت میں کابینی اراکین کو مقرر کرنے کا فیصلہ لیا۔ پھر بھی کچھ وزارت ایسے ہیں، جن کے لئے آگے وزرا کی تقرری کی جائے گی۔ یعنی مستقبل کے لئے...۔

      سوال: طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد جس طرح سے خواتین کے ساتھ برتاو کیا جاتا ہے، اس پر عالمی تشویش اور ردعمل سامنے آیا ہے۔ کوئی خاتون کابینی وزیر نہیں ہے۔ حجاب کے ساتھ ساتھ خواتین کے ہاتھوں کو کالے دستانے سے ڈھکنے کی تصاویر خوب ہنگامہ مچا رہی ہیں۔ اس پر آپ کا کیا کہنا ہے؟

      جواب: دستانے پہننا یا نہ پہننا ذاتی مسئلہ ہے، یہ ایک خاتون کا ضمیر ہے۔ یہ تھوپا نہیں گیا ہے۔ کچھ خاتون اینکر نیوز رپورٹ کرتے یا پڑھتے وقت اپنا چہرہ دکھاتی ہیں اور انہیں ڈھکتی نہیں ہیں۔ کچھ ٹیچرس بھی ایسا کرتی ہیں۔ آپ نے جس دستانے کی بات کا ذکر کیا ہے وہ لازمی نہیں ہے۔

      سوال: نائب وزیر دفاع کا ایک آڈیو کلب عوامی ڈومین میں آیا تھا۔ وہ کسی پنجابی مہمان سے پریشان تھے۔ شاید ڈی جی آئی ایس آئی۔ ظاہر ہے، وہ پریشان تھے کیونکہ انہیں طالبان کی ایک شمولیت والی حکومت نہیں بنانے کے لئے مجبور کیا گیا۔ اس پر آپ کی کیا وضاحت ہے؟

      جواب: نہیں یہ نامعلوم پیغام ہے۔ کچھ منڈلیوں نے ایسا پھیلایا ہے۔ ان کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ انہیں صرف ان کے حق میں اور ہمارے خلاف رائے کو گمراہ کرنے کے لئے پیش کیا جاتا ہے۔

      سوال: ایسی خبریں ہیں کہ حقانی اور طالبان کے درمیان زبردست اختلاف ہے اور طالبان انہیں داخلی وزارت دینے کا خواہاں نہیں تھا، لیکن پاکستان نے مداخلت کی اور ایسا ہوا۔ اس بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے؟

      جواب: ہاں، جیسا کہ میں نے کہا کہ وہ بہت ساری افواہیں ہیں، لیکن ان افواہوں کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ ہمارے مخالفین کے ذریعہ انہیں بار بار پھیلایا جا رہا ہے، لیکن وہ حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔

      سوال: تو آپ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کا کوئی کردار نہیں ہوگا اور آپ سب کچھ خود طے کریں گے؟

      جواب: کسی ملک کا کوئی کردار نہیں ہے۔ ہمارے پڑوسی اور علاقائی دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات ہیں۔ اس لئے یقینی طور پر، ہم افغانستان کی تعمیر میں ان کا تعاون چاہتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہمارے داخلی معاملوں میں ان کی مداخلت ہے۔ یہ ہماری پالیسی نہیں ہے، ہماری پالیسی واضح ہے۔ ہماری پریشانیوں کا ازالہ خود سے کریں گے۔

       

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: