உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    طالبان کے خاتمہ کے لئے ہندوستانی فضائیہ کی مدد چاہتا ہے افغانستان: رپورٹ

    طالبان کے خاتمہ کے لئے ہندوستانی فضائیہ کی مدد چاہتا ہے افغانستان: رپورٹ

    طالبان کے خاتمہ کے لئے ہندوستانی فضائیہ کی مدد چاہتا ہے افغانستان: رپورٹ

    Taliban Violence in Afghanistan: بات چیت کے نئے دور کے بعد بھی پنٹاگن کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ افغانستان حکومت اور اس کے سیکورٹی اہلکاروں کو ہی طالبان سے لڑنا ہوگا۔ اس لڑائی میں مد کے طور پر امریکہ کچھ خاص نہیں کرسکتا۔

    • Share this:
      کابل: طالبان (Taliban) نے منگل کے روز افغانستان (Afghanistan) کے 6 صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کرلیا ہے۔ قبضے کے بعد ہزاروں کی تعداد میں مقامی لوگ اپنا گھر چھوڑ کر بھاگ نکلے۔ ایسی حالات میں طالبان کے خاتمے کے لئے افغانستان کی اشرف غنی حکومت (Ashraf Ghani Government) ہندوستانی فضائیہ کی مدد چاہتی ہے۔ ’دی پرنٹ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، افغانستان حکومت چاہتی ہے کہ ہندوستانی فضائیہ (Indian Airforce) افغانستان جاکر افغان ایئر فورس کی مدد کرے۔ اشرف غنی حکومت کو خدشہ ہے کہ 31 اگست تک امریکی افواج کے پوری طرح سے افغانستان سے نکلنے کے بعد طالبان کے تشدد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

      واضح رہے کہ گزشتہ کچھ دنوں میں افغانستان حکومت اور طالبان کے درمیان پُرتشدد جھڑپ میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا ہے۔ طالبانی دہشت گردوں کی نظر اب افغانستان کے مزار شریف شہر پر ہے، جو کہ افغانستان کا سب سے بڑا شمالی شہر ہے۔ مزار شریف پر طالبان کا قبضہ علاقے سے افغان حکومت کے کنٹرول کے خاتمے کا اشارہ ہوگا۔ یہ شہر روایتی طور پر طالبان مخالف رہا ہے۔

      گزشتہ کچھ دنوں میں افغانستان حکومت اور طالبان کے درمیان پُرتشدد جھڑپ میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا ہے۔
      گزشتہ کچھ دنوں میں افغانستان حکومت اور طالبان کے درمیان پُرتشدد جھڑپ میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا ہے۔


      افغانستان میں سرکاری افواج کو قندھار اور ہیلمند میں طالبانی جنگجووں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ علاقہ پشتو بولنے والے لوگوں کا ہے، جہاں سے طالبان کو مضبوطی ملتی رہی ہے۔ حال ہی میں ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور افغانستان کے وزیر خارجہ محمد حنیف اتمر کے درمیان فون پر ہندوستانی فضائیہ کے ذریعہ کابل میں افغان فضائیہ کی مدد کرنے سے متعلق تبادلہ خیال ہوا تھا۔ حالانکہ نیوز 18 اس بات کی تصدیق نہیں کرتا ہے۔

      امریکہ اس ماہ کے آخر تک افغانستان سے اپنے فوجیوں کو پوری طرح نکال لے گا اور اس کے ساتھ افغانستان میں چل رہا اس کا سب سے لمبا جنگ ختم ہوجائے گا، لیکن امریکہ کے کابل سے نکلنے کو ایک طریقے سے اس کا میدان جنگ چھوڑ کر بھاگنا کہا جا رہا ہے۔ دوسری طرف واشنگٹن کے خصوصی سفیر ظالمی خلیل زاد قطر میں ہیں اور وہ طالبان کو سیزفائر کے لئے منانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکی محکمہ داخلہ نے افغانستان کی تازہ صورتحال پر جاری اپنے بیان میں کہا، ’خلیل زاد طالبان پر دباو بنائیں گے کہ وہ تشدد بند کرے۔ ساتھ ہی افغانستان کی خراب ہوتی صورتحال پر بین الاقوامی برادری کو ایک مشترکہ حکمت عملی بنانے میں تعاون دیں گے۔

       افغانستان میں سرکاری افواج کو قندھار اور ہیلمند میں طالبانی جنگجووں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

      افغانستان میں سرکاری افواج کو قندھار اور ہیلمند میں طالبانی جنگجووں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔


      قطر، برطانیہ، چین، پاکستان، ازبکستان، اقوام متحدہ اور یوروپین یونین کے ہائی کمیشن بھی قطر میں افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کریں گے۔ بات چیت کے نئے دور کے بعد بھی پنٹاگن کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ افغانستان حکومت اور اس کے سیکورٹی اہلکاروں کو ہی طالبان سے لڑنا ہوگا۔ اس لڑائی میں مدد کے طور پر امریکہ کچھ خاص نہیں کرسکتا۔ افغانستان میں کافی لمبے وقت سے تشدد کا کھیل چل رہا ہے اور مئی کے بعد سے افغانستان میں تشدد میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ کی قیادت میں ناٹو افواج کے افغانستان سے نکلنے کی مدت اب اپنے آخری دور میں ہے اور اس ماہ کے آخر تک پوری ہوگی۔ کافی بڑی تعداد میں امریکی فوج پہلے ہی افغانستان سے نکل چکی ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: