உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    صدر اشرف غنی کا افغانستان شہریوں کو پہلا پیغام، کابل سے نکلنا خونریزی کو روکنے کا واحد طریقہ

    افغانستان کے صدر اشرف غنی

    افغانستان کے صدر اشرف غنی

    افغان صدر اشرف غنی نے بدھ کے روز طالبان کی پیش قدمی کے پیش نظر کابل سے فرار ہونے کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے اسے خونریزی کو روکنے کا واحد طریقہ قرار دیا۔

    • Share this:
      افغان صدر اشرف غنی Afghan President Ashraf Ghani نے بدھ کے روز طالبان کی پیش قدمی کے پیش نظر کابل سے فرار ہونے کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے اسے خونریزی کو روکنے کا واحد طریقہ قرار دیا۔ انہوں نے تاجکستان میں اپنے ملک کے سفیر کے اس دعوے کی بھی تردید کی کہ انھوں نے سرکاری فنڈز سے لاکھوں ڈالر چوری کیے ہیں۔غنی نے بدھ کی رات دیر گئے اپنے فیس بک پیج پر ایک ویڈیو شیئرکیا جس میں اس بات کی تصدیق کی کہ وہ متحدہ عرب امارات میں ہیں۔ اشرف غنی نے کہا کہ ان کا دبئی میں رہنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور وطن واپسی کے لیے بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں وہاں رہتا تو افغانستان کے ایک منتخب صدر کو دوبارہ افغانوں کی آنکھوں کے سامنے پھانسی پر لٹکایا جاسکتا ہے۔

      واضح ہو کہ ملک سے فرار ہونے والے افغان صدر اشرف غنی کا بدھ کو متحدہ عرب امارات میں استقبال کیا گیا۔ متحدہ عرب امارات سے ، انہوں نے اپنے ملک ، افغانستان کے شہریوں کو پہلا پیغام بھیجا ہے۔ انہوں نے پیسے کے ساتھ ملک چھوڑنے کے الزامات کی واضع طور پر تردید کی اور اسے افواہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ چار کاروں اور پیسوں سے بھرے ہیلی کاپٹر کے ساتھ ملک چھوڑنے کی بات درست نہیں ، یہ سب بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف خونریزی سے بچنے کے لیے کابل سے نکلے ہیں۔ غنی نے کہا کہ ان کے پاس جوتے بدلنے کا وقت بھی نہیں ہے ، وہ اس روز کابل سے اسی سینڈل کے ساتھ راشٹرپتی بھون سے نکلے تھے جو انہوں اس وقت پہنے ہوئے تھے۔

      غنی نے کہا کہ ان چیزوں پر یقین نہ کریں جن میں آپ کو بتایا گیا ہے کہ آپ کے صدر نے آپ کو بیچا اور اپنے فائدے اور اپنی جان بچانے کے لیے یہاں سے بھاگ گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام الزامات بے بنیاد ہیں اور میں انہیں سختی سے مسترد کرتا ہوں۔ جب میں افغانستان سے نکلا تو میرے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ میں اپنی چپل چھوڑ کر جوتے پہنوں۔

      اشرف غنی نے کہا کہ ان کا دبئی میں رہنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور وطن واپسی کے لیے بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں وہاں رہتا تو افغانستان کے ایک منتخب صدر کو دوبارہ افغانوں کی آنکھوں کے سامنے پھانسی پر لٹکا یا جاسکتاہے۔ غنی نے یہ بھی کہا کہ کابل میں ایسا نہ کرنے کے معاہدے کے باوجود طالبان کابل میں داخل ہوئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ وہ اقتدار کی پرامن منتقلی کے حق میں تھے لیکن انہیں افغانستان سے نکال دیا گیا تھا۔انہوں نے طالبان اور سابق صدر حامد کرزئی اور سینئر عہدیدار عبداللہ عبداللہ کے درمیان مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ عمل کامیاب ہو۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: