உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغانستان کی سرزمین کا استعمال پڑوسیوں کے خلاف نہیں ہونے دیاجائے گا، طالبان نے پاکستان کو دلایا بھروسہ

    پاکستانی وفد کا افغانستان دورہ۔ طالبان نے پاکستان کو دلایا یہ یقین۔

    پاکستانی وفد کا افغانستان دورہ۔ طالبان نے پاکستان کو دلایا یہ یقین۔

    اس سے قبل جمعہ کو پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے کہا تھا کہ اسلام آباد کابل میں طالبان کی موجودہ حکومت کے بارے میں مکمل طور پر پرامید نہیں ہے کیونکہ جنگ زدہ ملک میں اب بھی منظم دہشت گرد نیٹ ورک کام کر رہے ہیں اور افغانستان کی سرزمین اب بھی پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔

    • Share this:
      کابل: پاکستان (Pakistan) کے قومی سلامتی مشیر (National Security Advisor) معید یوسف نے کابل کے اپنی دو روزہ دورے کے دوران افغانستان (Afghanistan) کے طالبان لیڈروں کے ساتھ تجارتی تعلقات اور دیگر مسائل پر غوروفکر کیا۔ اس دوران طالبان لیڈروں نے انہیں بھروسہ دلایا کہ افغانستان کی سرزمین کا استعمال پاکستان سمیت اپنے پڑوسی ملکوں کے خلاف نہیں کرنے دیا جائے گا۔ یوسف کی قیادتمیں اعلیٰ سطحی داخلی کابینی وفد نے 29 اور 30 جنوری کو کابل کے دورے کیا اور اس دوران افغانستان کے کارگذار نائب وزیراعظم عبدالسلام حنفی اور کارگزار وزیر خارجہ ملا امیر خان متقی سے بات چیت کی۔

      اخبار ’ڈان‘ کی خبر کے مطابق حنفی نے پاکستانی وفد کو یقین دلایا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان سمیت کسی بھی پڑوسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ اخبار کے مطابق کابل میں صدارتی محل سے جاری ایک بیان میں حنفی کے حوالے سے کہا گیا کہ امارت اسلامیہ (افغانستان) کی پالیسی واضح ہے کہ ہم کسی کو بھی اپنی سرزمین اپنے پڑوسیوں اور دیگر ممالک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

      افغانستان کی عبوری حکومت کو پاکستان نے نہیں کیا ہے تسلیم
      افغان دارالحکومت کابل میں ایک بین وزارتی وفد کی میزبانی کرتے ہوئے حنفی نے کہا کہ ہم دوسروں سے بھی ایسا ہی اقدام چاہتے ہیں۔ پاکستان نے تاحال افغانستان کی طالبان کی زیر قیادت عبوری حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔ اس درمیان، اتوار کو این ایس اے کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یوسف نے اپنے دورہ افغانستان کے دوران میزبان ملک کے رہنماؤں کے ساتھ تجارتی تعلقات اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا۔ یوسف افغانستان کے بین وزارتی رابطہ سیل کے سربراہ بھی ہیں۔

      بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس دورے کا مقصد افغان قیادت کے ساتھ ملک کی انسانی ضروریات اور افغانستان کو درپیش موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقتصادی روابط بڑھانے کے لیے پاکستان کی تجاویز پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ اس سے قبل جمعہ کو پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے کہا تھا کہ اسلام آباد کابل میں طالبان کی موجودہ حکومت کے بارے میں مکمل طور پر پرامید نہیں ہے کیونکہ جنگ زدہ ملک میں اب بھی منظم دہشت گرد نیٹ ورک کام کر رہے ہیں اور افغانستان کی سرزمین اب بھی پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: