உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغانستان: 570 سے طالبان ہلاک، امریکہ کا اپنے شہریوں کو افغانستان سے نکل جانے کا مشورہ

    افغانستان: 570 سے طالبان ہلاک، امریکہ کا اپنے شہریوں کو افغانستان سے نکل جانے کا مشورہ

    افغانستان: 570 سے طالبان ہلاک، امریکہ کا اپنے شہریوں کو افغانستان سے نکل جانے کا مشورہ

    افغانستان میں طالبان کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ اور قبضے کے دوران امریکہ نے افغانستان میں مقیم اپنے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ فوری طور پر وہاں سے نکل جائیں اور ایسے شہری جن کے پاس سفر کرنے کے وسائل نہیں ہیں انہیں 'وطن واپس لوٹنے کے لیے قرضے' دینے کی پیشکش کی ہے۔

    • Share this:

      کابل: افغانستان میں سرکاری سیکورٹی فورسز نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 570 سے زائد طالبان کو ہلاک کیا ہے۔ افغانستان کی وزارت دفاع نے پیر کو یہ اطلاع دی۔ وزارت دفاع نے ٹوئٹ کیا کہ "پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران ننگرہار، خوست، لوگر، پکتیا، قندھار، ہرات، فراہ، جوزان، سمگن، ہلمند، تخار، قندوز اور پنج شیر صوبوں میں سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 579 طالبان مارے گئے اور 161 دیگر زخمی ہوئے۔ افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے آغاز کے بعد سے ملک میں طالبان کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ سیکورٹی فورسز نے طالبان کے حملوں کو روکنے کے لیے اپنی کارروائیاں بھی تیز کر دی ہیں۔




      افغانستان میں سرکاری سیکورٹی فورسز نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 570 سے زائد طالبان کو ہلاک کیا ہے۔
      افغانستان میں سرکاری سیکورٹی فورسز نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 570 سے زائد طالبان کو ہلاک کیا ہے۔

      امریکہ نے اپنے شہریوں کو دیا مشورہ


      افغانستان میں طالبان کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ اور قبضے کے دوران امریکہ نے افغانستان میں مقیم اپنے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ فوری طور پر وہاں سے نکل جائیں اور ایسے شہری جن کے پاس سفر کرنے کے وسائل نہیں ہیں انہیں 'وطن واپس لوٹنے کے لیے قرضے' دینے کی پیشکش کی ہے۔ ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی میڈیا کی رپورٹ میں افغانستان میں موجود امریکی شہریوں کو جاری سیکیورٹی الرٹ کا حوالہ دیا گیا جس میں انہیں یاد دہانی کروائی گئی ہے کہ سیکیورٹی حالات اور عملے کی کمی کے باعث امریکی سفارتخانے کے پاس ان کی مدد کے لیے صلاحیت 'انتہائی محدود' ہے۔
      انتباہ میں امریکی شہریوں کو کمرشل پروازوں میں سفر کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور جو افراد وطن واپسی کی ٹکٹ خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے انہیں 'وطن واپسی کے لیے قرض' دینے کی پیش کش بھی کی گئی ہے۔ رواں سال کے آغاز میں محکمہ خارجہ نے کابل میں واقع امریکی سفارتخانے کے سرکاری ملازمین کو حکم دیا تھا کہ اگر وہ کہیں اور کام کرسکتے ہیں تو سفارتخانہ چھوڑ دیں۔ ہفتے کو جاری بیان میں امریکی سفارتخانے نے کئی صوبائی دارالحکومتوں پر طالبان کے قبضے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ عسکریت پسندوں کی 'افغان شہروں کے خلاف نئی پرتشدد کارروائیاں ' ناقابل قبول ہیں۔
      امریکی سفارت خانے کہا ہے کہ طالبان کی جانب زبردستی حکمرانی کے نفاذ کے لئے کارروائیاں ناقابل قبول ہیں اور دوحہ میں ہونے والے امن مذاکرات میں سیاسی تصفیے کی حمایت کے دعوے کے متضاد ہے۔ امریکی سفارتخانے نے طالبان پر زور دیا کہ وہ 'جامع اور مستقل جنگ بندی قبول کریں اور افغان شہریوں کی مشکلات ختم کرنے کے لیے امن مذاکرات میں مکمل طور پر شریک ہوں '۔ سفارتخانے مزید کہا ہے کہ 'صرف بات چیت سے ہی جامع سیاسی تصفیے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے جو تمام افغان شہریوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو اور اس بات کو یقینی بنائے افغانستان پھر کبھی دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال نہ ہو'۔ تمام امریکیوں سے افغانستان چھوڑنے کے مطالبے کی خبر دیتے ہوئے امریکی میڈیا نے خبردار کیا کہ 'اس عمل سے پہلے سے کمزور افغانیوں کی مزید حوصلہ شکنی ہوگی'۔ امریکی میڈیا نے یہ بھی کہا کہ عسکریت پسندوں نے گزشتہ سال امریکہ کے ساتھ ہونے والے امن معاہدے کے فوری بعد ہی پرتشدد کارروائیاں شروع کردیں اور انہیں امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی طرف سے اٖفغانستان سے رواں ماہ کے آخر تک تمام غیر ملکی افواج کے انخلا کے اعلان سے مزید حوصلہ ملا۔

      Published by:Nisar Ahmad
      First published: