உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    طالبان خود ہوا دہشت گردانہ حملے کا شکار، کابل دھماکے میں 28 طالبانی جنگجو ہلاک

    کابل ایئر پورٹ دھماکہ میں طالبان کے 28 جنگجووں کے بھی ہلاک ہونے کی خبر ہے۔ نیوز ایجنسی رائٹرس کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے۔ طالبان نے بھی اس بات کی تصدیق کردی ہے۔

    کابل ایئر پورٹ دھماکہ میں طالبان کے 28 جنگجووں کے بھی ہلاک ہونے کی خبر ہے۔ نیوز ایجنسی رائٹرس کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے۔ طالبان نے بھی اس بات کی تصدیق کردی ہے۔

    کابل ایئر پورٹ دھماکہ میں طالبان کے 28 جنگجووں کے بھی ہلاک ہونے کی خبر ہے۔ نیوز ایجنسی رائٹرس کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے۔ طالبان نے بھی اس بات کی تصدیق کردی ہے۔

    • Share this:
      کابل: افغانستان کے کابل ایئر پورٹ پر گزشتہ روز ہوئے دہشت گردانہ حملوں میں اب تک 103 افراد کی جان جاچکی ہے۔ یہ تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ اس درمیان بتایا جارہا ہے کہ کابل ایئر پورٹ دھماکہ میں طالبان کے 28 جنگجووں کے بھی ہلاک ہونے کی خبر ہے۔ نیوز ایجنسی رائٹرس کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے۔ طالبان نے بھی اس بات کی تصدیق کردی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ جنگجو کابل ایئر پورٹ کے باہرتعینات تھے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں میں ہم نے امریکہ سے زیادہ لوگوں کو گنوایا ہے۔

      نیوز ایجنسی کے مطابق، دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ایس کے خراسان گروپ نے حملے کی ذمہ داری لی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے جنرل کینیتھ میکینزی نے کہا ہے کہ مرنے والوں میں 13 مرین کمانڈو شامل ہیں، جبکہ 15 زخمی ہیں۔

      امریکی وزارت دفاع پینٹاگن نے کہا- ’جمعرات کو حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے ابے گیٹ پر پہلا دھماکہ ہوا۔ کچھ ہی دیر بعد ایئرپورٹ کے نزدیک بیرن ہوٹل کے پاس دوسرا دھماکہ ہوا۔ یہاں برطانیہ کے فوجی ٹھہرے ہوئے تھے۔ ایئر پورٹ کے باہر تین مشتبہ افراد کو دیکھا گیا تھا۔ اس میں دو خودکش حملہ آور تھے، جبکہ تیسرا بندوق لے کر آیا تھا۔ مرنے والوں کی تعداد بڑھنے کا امکان ہے۔ حملیے کے فوراً بعد ایئر پورٹ سے تمام فلائٹ آپریشنس بند کردیئے گئے تھے‘۔

      فلائٹ کے انتظار میں ایئرپورٹ پر ابھی منتظر ہیں لوگ

      یو ایس سینٹرل کمانڈ کے جنرل میکنزی نے کہا- ’فی الحال، 5 ہزار لوگ کابل ایئر پورٹ پر فلائٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان میں ایک ہزار امریکی ہیں۔ 14 اگست سے اب تک ہم ایک لاکھ چار ہزار سویلین کو نکال چکے ہیں۔ ان میں سے 66 ہزار امریکہ اور 37 ہزار ہمارے اتحادی ممالک کے شہری ہیں‘۔

      طالبان نے پاکستان کو بتایا دوسرا گھر

      اس درمیان طالبان نے پاکستان سے اپنی قربت کی بات کا اعتراف کیا ہے۔ طالبانی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستانی چینل ARY نیوز سے بات چیت میں کہا ہے کہ پاکستان ان کی تنظیم (طالبان) کے لئے دوسرے گھر جیسا ہے۔ ذبیح اللہ نے یہ بھی کہا ہے کہ افغانستان کی سرحد پاکستان سے متصل ہے۔ مذہبی بنیاد پر بھی دونوں ممالک کے لوگ ایک دوسرے سے گھلے ملے ہوئے ہیں، اس لئے ہم پاکستان سے رشتے مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔

      کشمیر پر ہندوستان کو دی نصیحت

      ذبیح اللہ مجاہد نے ہندوستان کے ساتھ بھی اچھے رشتے کی بات کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بس یہی خواہش ہے کہ ہندوستان افغانیوں کے مفاد کے لحاظ سے ہی اپنی پالیسی طے کریں۔ طالبان ترجمان نے کشمیر کو لے کر ہندوستان کو مثبت رخ اپنانے کی نصیحت دی۔ اس نے کہا کہ دونوں ممالک کے مفاد ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اس لئے ہر متنازعہ مسائل کو انہیں مل کر بیٹھ کر حل کرنا چاہئے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: