உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    باپ نے 55 سالہ بوڑھے شخص کو شادی کیلئے سونپ دی 9 سالہ بچی، کہا یہ تمہاری دلہن، مارنا مت

    باپ ملک نے قربان سے التجا کی کہ یہ تمہاری دلہن ہے۔ خدا کے لیے اس کا خیال رکھیں۔ اسے مارنا پیٹنا نہیں۔ قربان نے پروانہ کے والد ملک کو بھی یقین دلایا کہ وہ لڑکی کو نہیں مارے گا۔ اس کے ساتھ خاندان کے فرد کی طرح ہی سلوک کرے گا۔

    باپ ملک نے قربان سے التجا کی کہ یہ تمہاری دلہن ہے۔ خدا کے لیے اس کا خیال رکھیں۔ اسے مارنا پیٹنا نہیں۔ قربان نے پروانہ کے والد ملک کو بھی یقین دلایا کہ وہ لڑکی کو نہیں مارے گا۔ اس کے ساتھ خاندان کے فرد کی طرح ہی سلوک کرے گا۔

    باپ ملک نے قربان سے التجا کی کہ یہ تمہاری دلہن ہے۔ خدا کے لیے اس کا خیال رکھیں۔ اسے مارنا پیٹنا نہیں۔ قربان نے پروانہ کے والد ملک کو بھی یقین دلایا کہ وہ لڑکی کو نہیں مارے گا۔ اس کے ساتھ خاندان کے فرد کی طرح ہی سلوک کرے گا۔

    • Share this:
      کابل۔ افغانستان (Afghanistan Crisis) میں طالبان (Taliban) کے قبضے کے بعد معاشی بحران اس قدر بڑھ گیا ہے کہ لوگوں کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں۔ اب اس مسئلے کے سنگین نتائج بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ کھانا کھلانے کے لیے گھریلو سامان بیچنے کے بعد اب لوگ اپنی بیٹیوں کو بھی بیچنے پر مجبور ہیں۔ ایسی ہی ایک دل دہلا دینے والی کہانی 9 سالہ پروانہ ملک کی ہے۔ والد نے اسے گزشتہ ماہ ایک 55 سالہ شخص کو فروخت کیا۔ اس کے بدلے میں خاندان کو 2 لاکھ روپے ملے۔

      سی این این کی رپورٹ کے مطابق ننھی پروانہ ملک کے خاندان میں آٹھ افراد ہیں۔ اب خاندان کے پاس زندہ رہنے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ گھر میں نہ اناج ہے نہ تیل۔ ایسے میں اس خاندان کے پاس پیٹ بھرنے کے لیے کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا تھا۔ باپ نے اپنی ہی 9 سالہ بیٹی کو اپنے سے بڑے شخص کو بیچ دیا۔ حالانکہ باپ نے شخص سے درخواست کی ہے کہ وہ بیٹی کے ساتھ مار پیٹ نہ کرے کیونکہ لڑکی اب اس کی دلہن ہے۔

      2200 میں باپ نے بیٹی کا کیا سودا
      سی این این کی رپورٹ کے مطابق 55 سالہ قربان 2200 ڈالر (تقریباً 2 لاکھ افغان روپے) لے کر پروانہ ملک کے گھر پہنچا۔ پروانہ کے والد کو بھیڑ بکریوں، زمین اور نقدی کی شکل میں 2 لاکھ افغانی روپے دیے اور 9 سالہ بچی کو لے کر چلا گیا۔ تب باپ ملک نے قربان سے التجا کی کہ یہ تمہاری دلہن ہے۔ خدا کے لیے اس کا خیال رکھیں۔ اسے مارنا پیٹنا نہیں۔ قربان نے پروانہ کے والد ملک کو بھی یقین دلایا کہ وہ لڑکی کو نہیں مارے گا۔ اس کے ساتھ خاندان کے فرد کی طرح ہی سلوک کرے گا۔



      اس سے قبل 12 سالہ بیٹی کو فروخت کیا گیا تھا۔
      سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں پروانہ کے والد عبدالملک نے مزید خطرناک انکشافات کیے ہیں۔ عبدالملک نے انٹرویو کے دوران بتایا، 'کچھ ماہ قبل میں نے اپنی 12 سالہ بیٹی کو بھی پیٹ بھرنے کے لیے بیچ دیا تھا۔ اب ایک اور بیٹی کو خاندان کے دیگر افراد کو زندہ رکھنے کے لیے بیچنے پر مجبور ہونا پڑا۔ عبدالملک نے کہا کہ اس فیصلے کے بعد وہ اور ان کا خاندان مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے۔ پورا خاندان پریشانی، پچھتاوا، جرم اور شرمندگی میں ہے۔۔



      پروانہ نے کہا کہا؟
      وہیں اجنبی شخص کے ہاتھوں بیچی گئی 9 سالہ بچی پروانہ نے بھی سی این این سے بات کی۔ پروانہ شادی کے خیالوں سے بری طرح ڈری ہوئی ہے۔ لڑکی نے کہا، 'وہ مزید پڑھ کر ٹیچر بننا چاہتی ہے لیکن اب اسے ایک بوڑھے کے ہاتھ بیچ دیا گیا ہے۔ وہ اس سے شادی کرے گا اور اس کے ساتھ ہی اس کی زندگی ختم ہو جائے گی۔ شادی کے بعد بوڑھا اس کی پٹائی کرے گا اور اسے گھر کے سارے کام کرنے پر مجبور کرے گا۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: