ہوم » نیوز » عالمی منظر

افغان طالبان نے اپنے نظام حکومت کا خاکہ کیا پیش ، کہی یہ بڑی باتیں

میڈیا رپورٹ کے مطابق ایجنڈے میں کہا گیا ہے کہ طالبان انخلا کے بعد امریکہ سمیت دنیا بھر سے سفارتی و معاشی تعلقات کے خواہاں ہیں، طالبان افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، اسی طرح ہمارے داخلی امور میں بھی دخل اندازی سے گریز کیا جائے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jul 19, 2021 07:50 PM IST
  • Share this:
افغان طالبان نے اپنے نظام حکومت کا خاکہ کیا پیش ، کہی یہ بڑی باتیں
افغان طالبان نے اپنے نظام حکومت کا خاکہ کیا پیش ، کہی یہ بڑی باتیں ۔ علامتی تصویر ۔

کابل : افغان طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخونزادہ نے افغانستان میں اپنی حکومت کا خاکہ پیش کر تے ہوئے افغانستان میں حکومت کے خدوخال پر مبنی 20 نکاتی مجوزہ ایجنڈا جاری کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ایجنڈے میں کہا گیا ہے کہ طالبان انخلا کے بعد امریکہ سمیت دنیا بھر سے سفارتی و معاشی تعلقات کے خواہاں ہیں، طالبان افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، اسی طرح ہمارے داخلی امور میں بھی دخل اندازی سے گریز کیا جائے۔


ہیبت اللہ اخونزادہ نے کہا کہ غیر ملکی سفارت کاروں، سفارت خانوں اور سرمایہ کاروں کو ہر ممکن تحفظ دیں گے، افغانستان ہم سب کا گھر ہے، تمام ملکی فریقوں کے لیے بھی ہمارے دروازے کھلے ہیں، لیکن طالبان حقیقی اسلامی نظام چاہتے ہیں اس لیے ملکی فریق بھی اسے تسلیم کریں۔


ایجنڈے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ طالبان کی صفوں میں شامل ہونے والے سرکاری اہل کاروں اور فوجیوں سے وعدے پورے کیے جائیں گے، حکومت کے قیام اور ملک کی ترقی میں افغان اقوام کا بڑا کردار ہوگا۔ ایجنڈے کے مطابق طالبان کے زیر اثر علاقوں میں مدارس، اسکول، کالجز اور یونیورسٹیاں کھلی رہیں گی۔


خیال رہے کہ دوحہ مذاکرات کے دوسرے روز طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخونزادہ نے ایک بیان جاری کیا تھا، جس میں انھوں نے کہا اسلامی امارات ایک سیاسی حل کی حمایت کرتی ہے باوجود اس کے کہ اسے میدان میں کامیابیاں مل رہی ہیں۔

امریکہ سمیت متعدد ممالک کا طالبان سے اہم مطالبہ

افغانستان کے دارالحکومت میں امریکہ سمیت متعدد ممالک کے سفارتی مشنز نے طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان میں اپنی حالیہ جنگی کارروائیاں فوری طور پر روک دیں۔ تفصیلات کے مطابق پیر کو کابل میں امریکی سفارت خانے سے جاری کیے گئے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ طالبان کی کارروائیوں سے شہر آبادی اور امن مذاکرات کو نقصان پہنچ رہا ہے، لوگ بے گھر ہو رہے ہیں، یہ کارروائیاں دوحہ میں کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی ہیں، طالبان نے کہا تھا کہ وہ مذاکرات کے ذریعے افغان تنازعے کا حل چاہتے ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق کابل میں امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، اسپین، سویڈن، جمہوریہ چیک اور یورپین یونین کے دفتر نے طالبان کے حملوں کی مذمت کی ہے۔سفارتی مشنز کے بیان میں کہا گیا ہے کہ طالبان کی جارحیت کے نتیجے میں معصوم افغان شہریوں کی ہلاکتوں سمیت ٹارکٹ کلنگ، افغان شہریوں کی نقل مکانی، لوٹ مار اور ذرائع مواصلات کی بربادی جیسے واقعات پیش آئے ہیں۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 19, 2021 07:43 PM IST