உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغانستان پرطالبان کے قبضے سے ہندوستان کی تشویش میں اضافہ، خطرے کے پیش نظر تینوں فوجی سربراہان نے بپن راوت کے ساتھ اٹھایا یہ قدم

    افغانستان پرطالبان کے قبضے سے ہندوستان کی تشویش میں اضافہ، خطرے کے پیش نظر تینوں فوجی سربراہان نے بپن راوت کے ساتھ اٹھایا یہ قدم

    افغانستان پرطالبان کے قبضے سے ہندوستان کی تشویش میں اضافہ، خطرے کے پیش نظر تینوں فوجی سربراہان نے بپن راوت کے ساتھ اٹھایا یہ قدم

    Taliban in Afghanistan: ہندوستان کے لئے طالبان اس لئے بھی بڑا بحران بنتا جا رہا ہے، کیونکہ طالبان نے صرف افغانستان پر قبضہ ہی نہیں کیا ہے بلکہ اب بڑی تعداد میں اس کے پاس جدید ترین ہتھیار اور ہیلی کاپٹر بھی اس کے پاس ہیں۔ طالبان کے ہاتھوں میں موجود امریکی فوج کے ہتھیار بڑی تباہی کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔

    • Share this:
      نئی دہلی: افغانستان (Afghanistan) پر طالبان (Taliban) کے قبضے کے بعد سے ہندوستان (India) کی تشویش میں اضافہ ہوگیا ہے۔ طالبان کو جس طرح سے پاکستان کی حمایت ملی ہے، وہ ہندوستان کے لئے کسی بڑے خطرے سے کم نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان کے بدلتے حالات کو دیکھتے ہوئے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت (Bipin Rawat) کی قیادت میں فوجی افسران کی ایک میٹنگ ہونے جا رہی ہے۔ اس میٹنگ میں طالبان سے ہندوستان کے خطرے کو دیکھتے ہوئے سیکورٹی معاملات پر غوروخوض کئے جانے کی امید ہے۔

      واضح رہے کہ تحریک طالبان، جیش محمد اور حقانی نیٹ ورک جیسے پاکستان واقع دہشت گردانہ گروپوں کے ساتھ اقوام متحدہ کے ذریعہ نامزد عالمی دہشت گرد گروپوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی قربت کو دیکھتے ہوئے تینوں فوج کے سربراہ سیکورٹی انتظامات کو لے کر تبادلہ خیال کریں گے۔ ہندوستان کے لئے افغانستان میں طالبان کا قبضہ ہونا اس لئے بھی باعث تشویش ثابت ہو رہا ہے کیونکہ ایسا پہلی بار ہوگا، جب افغانستان کی زمین پر ایک بھی امریکی فوجی موجود نہیں ہوں گے۔

      ہندوستان کے لئے طالبان اس لئے بھی بڑا بحران بنتا جا رہا ہے، کیونکہ طالبان نے صرف افغانستان پر قبضہ ہی نہیں کیا ہے بلکہ اب بڑی تعداد میں اس کے پاس جدید ترین ہتھیار اور ہیلی کاپٹر بھی اس کے پاس ہیں۔ طالبان کے ہاتھوں میں موجود امریکی فوج کے ہتھیار بڑی تباہی کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔

      امریکی فوج اور نیوی کے ذریعہ استعمال کئے جانے والے بلیک ہاک کو دنیا کے سب سے بہترین ہیلی کاپٹرس میں شمار کیا جاتا ہے۔ امریکی پارلیمنٹ جم بینکس نے کہا ہے- ’طالبان کے قبضے میں اب امریکہ کی ملٹری فوجی سازوسامان کی 85 بلین ڈالر سے زیادہ کی جائیداد ہے۔ ان میں 75 ہزار گاڑیاں، 200 سے زیادہ جہاز اور ہیلی کاپٹرس، 6 لاکھ چھوٹے اور ہلکے آرم ویپن ہیں، لیکن طالبان کے پاس صرف یہی سب نہیں ہے۔ ان کے پاس نائٹ وزن گوگلس، میڈیکل کے سازوسامان بھی ہیں‘۔

      ایسے میں امید ہے کہ یہ امریکہ کے ذریعہ بنائے گئے ملٹری ہارڈ ویئر جیش محمد اور لشکر طیبہ جیسے دہشت گرد گروپوں کو مزید خطرناک بناسکتے ہیں اور دہشت گرد ان کا استعمال کشمیر میں ہندوستان کو نشانہ بنانے کے لئے بھی کرسکتے ہیں۔ سیکورٹی کی صورتحال تب مزید خراب ہوجائے گی، جب طالبان کیڈر بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں کا استعمال کرنا شروع کریں گے۔

      دوسری تشویش کی وجہ یہ ہے کہ طالبان اور پاکستان میں واقع دہشت گرد اسلام آباد میں بیٹھ کر ہندوستان میں کسی بھی دہشت گردانہ حملے کو انجام دے سکتے ہیں۔ طالبان 1.0 سے طالبان 2.0 اور بھی زیادہ خطرناک دکھائی پڑتا ہے۔ طالبان کو افغانستان پر قبضہ دلانے میں پاکستان کا اہم کردار رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان اب طالبان کے مبینہ دہشت گردوں کا استعمال ہندوستان میں دہشت گردانہ سازش کو انجام دینے میں کرسکتا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: