உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Afghanistan crisis: طالبان کے خوف سے ملک چھوڑ رہے ہیں لوگ، کابل ایئر پورٹ پر فائرنگ کے بعد بھگدڑ، امریکہ نے کیا بڑا اعلان

    Afghanistan crisis: طالبان کے خوف سے ملک چھوڑ رہے ہیں لوگ، کابل ایئر پورٹ پر فائرنگ کے بعد بھگدڑ

    Afghanistan crisis: طالبان کے خوف سے ملک چھوڑ رہے ہیں لوگ، کابل ایئر پورٹ پر فائرنگ کے بعد بھگدڑ

    کابل ایئر پورٹ پر افراتفری کا ماحول اس دوران فائرنگ ہونے سے بھگدڑ مچ گئی۔ بھگدڑ میں کئی لوگوں کے زخمی ہونے کی بھی خبر ہے۔ فی الحال امریکہ نے کابل ایئر پورٹ کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے اور 6000 فوجی اتارنے کی تیاری میں ہے۔

    • Share this:
      کابل: افغانستان (Afghanistan) پر طالبان (Taliban) کے قبضے کے بعد کابل میں حالات انتہائی خراب ہوگئے ہیں۔ افغانستان سے نکلنے کا صرف ایک راستہ کابل ایئر پورٹ ہی بچا ہے۔ لوگ ملک چھوڑنے کے لئے بھاگ رہے ہیں۔ کابل ایئر پورٹ پر افراتفری کا ماحول اس دوران فائرنگ ہونے سے بھگدڑ مچ گئی۔ بھگدڑ میں کئی لوگوں کے زخمی ہونے کی بھی خبر ہے۔ فی الحال امریکہ نے کابل ایئر پورٹ کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے اور 6000 فوجی اتارنے کی تیاری میں ہے۔ امریکہ نے افغانستان سے اپنے ملک کے شہریوں کو محفوظ نکالنے کے لئے کابل ایئر پورٹ کے ایئر ٹریفک کنٹرول کو ٹیک اوور کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے لئے وہ تقریباً 6000 جوانوں کو تعینات کرے گا۔

      وہیں دوسری طرف افغانستان (Afghanistan) پر طالبان کے قبضے کے ساتھ ہی نئے صدر کے نام کو لے کر بھی صورتحال واضح ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ انگریزی نیوز چینل سی این این - نیوز 18 کی خبر کے مطابق، طالبان (Taliban) کے ملا عبدالغنی بردار (Mullah Abdul Ghani Baradar) کو افغانستان کا نیا صدر اعلان کئے جانے کا امکان ہے۔

      طالبان نے افغانستان میں سرکاری ملازمین کو طالبان کے اقتدار کے تحت 20 سال پہلے کی طرح لوٹنے کا انتباہ دیا ہے۔ طالبان کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ایک نئی شروعات کریں، رشوت، گھوٹالہ، تکبر، بدعنوانی، سستی اور بے حسی سے محتاط رہیں۔ ملازمین سے کہا گیا ہے کہ وہ پہلے جیسے ہوجائیں، جیسے وہ 20 سال پہلے طالبان کے دور اقتدار میں تھے۔ افغانستان پر قبضے کے ساتھ ہی طالبان نے جنگ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ طالبان نے کہا- صدر اشرف غنی اور سفارت کاروں کے افغانستان چھوڑنے کے ساتھ ہی جنگ ختم ہوگیا ہے۔

      امریکہ نے افغانستان سے اپنے ملک کے شہریوں کو محفوظ نکالنے کے لئے کابل ایئر پورٹ پر ٹریفک کنٹرول کو ٹیک اوور کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکہ کے ایک دفاعی افسر نے بتایا کہ جو بائیڈن نے ہفتہ کے روز اپنے بیان میں کل 5,000 جوانوں کی تعیناتی کو منظوری دی۔ انہوں نے کہا کہ ان میں وہ 1,000 فوجی بھی شامل ہیں، جو پہلے سے افغانستان میں موجود ہیں۔ امریکی 82ویں ایئر بورن ڈویژن سے 1,000 فوجیوں کی ایک بٹالین کو کویت میں ان کی تعیناتی کے بجائے کابل بھیج دیا گیا تھا۔ دفاعی افسر نے بتایا کہ پنٹاگن  نے پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ 3,000 اضافی فوجیوں کو بھیجا جا رہا ہے۔ جو بائیڈن اور امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے قومی سیکورٹی اہلکاروں کو ویڈیو کانفرنسنگ کی تھی، جس کے بعد صدر نے اور سیکورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کا اعلان کیا ہے۔

       

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: