உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ایران ماڈل پر طالبانی حکومت بنانے کی ہو رہی ہیں تیاریاں، مہمانوں کی فہرست بھی تیار

    ایران ماڈل پر طالبانی حکومت بنانے کی ہو رہی ہیں تیاریاں، مہمانوں کی فہرست بھی تیار

    ایران ماڈل پر طالبانی حکومت بنانے کی ہو رہی ہیں تیاریاں، مہمانوں کی فہرست بھی تیار

    کابل (Kabul) واقع راشٹرپتی بھون میں والہانہ تقریب کے لئے تیاریاں زوروشور پر ہیں۔ موصولہ اطلاع کے مطابق، طالبان (Taliban) کی نئی حکومت کی تشکیل کے موقع پر ہندوستان سمیت کئی ممالک کے سربراہان کو دعوت نامہ بھیجا جانے والا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      کابل: افغانستان (Afghanistan) پر طالبان (Taliban) کے قبضے کے بعد اب حکومت بنانے کا فارمولہ بھی طے کرلیا گیا ہے۔ آئندہ تین دنوں کے اندر اس کا اعلان کر دیا جائے گا۔ طلوع نیوز کے مطابق، طالبان حکومت بنانے کے لئے ایران کا فارمولہ اپنائے گا۔ یہاں ایک سپریم لیڈر ہوگا اور اس کے ماتحت وزیر اعظم اور صدر کام کرے گا۔ طالبان کے کلچر کمیشن کے رکن انعام اللہ سمن غنی نے بتایا، ’ہماری نئی اسلامی حکومت دنیا کے لئے ایک ماڈل ہوگی۔ ملا ہبت اللہ اخند زادہ ہی ہمارے سپریم لیڈر ہوں گے اور ان کی قیادت میں ہم کام کریں گے‘۔

      واضح رہے کہ ایران میں بھی اسلامی حکومت کا ماڈل نافذ ہے۔ یہاں ایک سپریم لیڈر ہیں اور ان کے ماتحت صدر حکومت چلانے کا کام کر رہا ہے۔ ایران میں ابھی آیت اللہ علی خامنہ ای سپریم لیڈر ہیں، جبکہ ابراہیم الرئیسی اس وقت ایران کے صدر ہیں۔

      اس درمیان کابل (Kabul) واقع راشٹرپتی بھون میں والہانہ تقریب کے لئے تیاریاں زوروشور پر ہیں۔ موصولہ اطلاع کے مطابق، طالبان کی نئی حکومت کی تشکیل کے موقع پر ہندوستان سمیت کئی ممالک کے سربراہان کو دعوت نامہ بھیجا جانے والا ہے۔ قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ڈپٹی لیڈر شیر عباس استانک زئی نے اس بات کی تصدیق کی کہ نئی حکومت میں سبھی افغان گروپوں کی نمائندگی ہوگی۔ انہوں نے کہا، ’جن لوگوں نے 2001 میں امریکی قبضے کے بعد کابینہ میں خدمات انجام دیں، انہیں نئی کابینہ میں جگہ نہیں دی جائے گی‘۔

      طالبانی لیڈر نے حکومت کو منظوری دینے کی اپیل کی

      حکومت کے خاکہ کی جانکاری دیئے بغیر شیر عباس استانک زئی نے کہا کہ نئی حکومت میں خواتین کا اہم کردار ہونے والا ہے۔ انہوں نے اس بات کو واضح نہیں کیا کہ کیا خواتین کو وزیر عہدہ جیسے اعلیٰ مقامات پر جگہ دی جائے گی۔ طالبان لیڈر نے بین الاقوامی برادری سے کہا کہ وہ نئی افغان حکومت کو منظوری دیں، کیونکہ 40 سالوں میں ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ ملک میں پُرامن حکومت کی تشکیل ہوگی۔

      قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ڈپٹی لیڈر شیر عباس استانک زئی نے کہا، سبھی افغانی متحد ہیں اور ہمیں امید ہے کہ امریکہ، یوروپی یونین اور دنیا کے باقی ملک ہماری حکومت کو منظوری دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دوحہ میں غیر ملکی سفارت کاروں سے مسلسل بات چیت کی جارہی ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: