உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کابل میں 'پاکستان کی موت' کے نعرے لگا رہے تھے مظاہرین، طالبان نے برسائیں گولیاں

    ویسے تو خواتین گزشتہ کئی دنوں سے افغانستان کے مختلف شہروں میں اپنے حقوق کے لیے مظاہرے کر رہی ہیں لیکن کابل میں پہلی بار رات کے وقت مظاہرے ہوئے ہیں۔

    ویسے تو خواتین گزشتہ کئی دنوں سے افغانستان کے مختلف شہروں میں اپنے حقوق کے لیے مظاہرے کر رہی ہیں لیکن کابل میں پہلی بار رات کے وقت مظاہرے ہوئے ہیں۔

    ویسے تو خواتین گزشتہ کئی دنوں سے افغانستان کے مختلف شہروں میں اپنے حقوق کے لیے مظاہرے کر رہی ہیں لیکن کابل میں پہلی بار رات کے وقت مظاہرے ہوئے ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      افغانستان   (Afghanistan) کی راجدھانی کابل میں طالبان   (Taliban) کے  ظلم و بربریت کا چہرہ ایک  بار پھر سے اجاگر ہوا ہے۔ یہاں پاکستان مخالف ریلی میں جمع ہوئی بھیڑ کو تتر۔بتر کرنے  کیلئے طالبانی جنگجوؤں نے فائرنگ کر دی۔ حالانکی اس گولی باتی میں کسی کے نقصان کی کوئی خبر فی الحال نہیں ہے۔

      خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 70 سے زائد افراد کابل میں پاکستانی سفارت خانے کے باہر احتجاج کر رہے تھے۔ اس میں خواتین کی بڑی تعداد بھی شامل تھی۔ اس احتجاج کی کچھ ویڈیوز منظر عام پر آئی ہیں  جن میں مظاہرین  'پاکستان مردہ باد' اور 'پنجشیر زندہ باد' کے نعرے لگاتے ہوئے سنا گیا۔


      کابل میں مقامی صحافیوں کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیوز میں سینکڑوں افغان مرد و خواتین پاکستان مخالف بینرز اٹھائے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں  جنہوں نے ’’ آزادی ، آزادی ‘‘ اور ’’ پاکستان کی موت ‘‘ ، ’’ آئی ایس آئی ISI  کی موت ‘‘ جیسے نعرے بلند کیے۔

      دراصل افغانی پنجشیر جنگ میں طالبان کے ڈرون حملے اور آئی ایس آئی کے سربراہ فیض حامد کے دورہ کابل سے ناراض ہیں۔ بین الاقوامی برادری نے بھی اس پر تنقید کی ہے۔ افغانستان کے لوگ کابل کے مختلف مقامات پر پاکستان کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

      ویسے تو خواتین گزشتہ کئی دنوں سے افغانستان کے مختلف شہروں میں اپنے حقوق کے لیے مظاہرے کر رہی ہیں لیکن کابل میں پہلی بار رات کے وقت مظاہرے ہوئے ہیں۔



      کابل کے علاوہ واشنگٹن ، امریکہ میں ریلیاں نکال کر 'پاکستان مردہ باد' کے نعرے بلند کیے گئے ہیں۔ لوگوں نے پاکستان پر نئی پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: