உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    طالبان کا بڑا بیان، کہا: ہندستان۔پاکستان سرحد پر لڑلیں، ہمیں دور ہی رکھیں

    دونوں ممالک اپنی سرحد پر لڑ سکتے ہیں۔ لیکن  انہیں اس کے لیے افغانستان کا استعمال نہیں کرنا چاہیے اور ہم کسی بھی ملک کو اس کے لیے اپنی زمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

    دونوں ممالک اپنی سرحد پر لڑ سکتے ہیں۔ لیکن انہیں اس کے لیے افغانستان کا استعمال نہیں کرنا چاہیے اور ہم کسی بھی ملک کو اس کے لیے اپنی زمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

    دونوں ممالک اپنی سرحد پر لڑ سکتے ہیں۔ لیکن انہیں اس کے لیے افغانستان کا استعمال نہیں کرنا چاہیے اور ہم کسی بھی ملک کو اس کے لیے اپنی زمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

    • Share this:
      کابل۔ طالبان لیڈر شیر محمد عباس استینکزئی نے ہندستان اور پاکستان کے تعلقات کو لیکر  بڑا بیان دیا ہے۔ استینکزئی نے کہا کہ ہندستان اور پاکستان کو  اپنے اندرونی معاملات میں افغانستان کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ مانا جا رہا ہے کہ استینکزئی  کابل میں طالبان حکومت کے تحت خارجہ امور سنبھال رہے ہیں۔ CNN-News18 کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں  استینکزئی نے کہا کہ طالبان اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیں۔

      طالبان حکومت کے ہندستان کے ساتھ تعصبانہ دشمنی رکھنے یا پاکستان کے ساتھ ملی بھگت سے ہندستان  کو نشانہ بنانے کے امکان کے بارے میں پوچھے جانے پر استینکزئی نے کہا کہ "میڈیا میں آنے والی کچھ خبریں غلط ہیں۔" انہوں نے کہا کہ ہم نے کبھی ایسا بیان نہیں دیا اور نہ ہی ہماری طرف سے ایسا کوئی اشارہ دیا گیا ہے۔ ہم اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔

      طالبان لیڈر  نے کہا کہ وہ ہندستان   اور پاکستان کے درمیان طویل عرصے سے جاری جغرافیائی اور سیاسی تنازع سے آگاہ ہیں۔ تاہم طالبان کو امید تھی کہ افغانستان کو دونوں ممالک کے اندرونی معاملات میں استعمال نہیں کیا جائے گا۔ استینکزئی  نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ وہ افغانستان کو اپنے اندرونی معاملات کے لیے استعمال نہیں کریں گے۔ ان کے درمیان ایک لمبی سرحد ہے۔ دونوں ممالک اپنی سرحد پر لڑ سکتے ہیں۔ لیکن  انہیں اس کے لیے افغانستان کا استعمال نہیں کرنا چاہیے اور ہم کسی بھی ملک کو اس کے لیے اپنی زمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

      اس سے قبل طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا تھا کہ طالبان کو افغانستان میں ہندستان   کے ترقیاتی منصوبے سے کبھی کوئی شکایت نہیں تھی لیکن طالبان کی طرف سے ہندستان   کی مخالفت اس لیے تھی کہ نئی دہلی کابل کی اشرف غنی حکومت کی حمایت کرتی تھی۔

      سہیل شاہین نے کہا کہ گزشتہ 20 سالوں میں ہندستان نے افغانستان میں جو ترقیاتی کام کیے ہیں، سڑکوں سے لے کر ڈیموں اور یہاں تک کہ پارلیمنٹ کی عمارتوں تک  اورطالبان کے ذریعے دو طرفہ تجارت روکے جانے کے خدشات پر  سہیل شاہین نے کہا تھا کہ افغان عوام کے مفاد سے متعلقہ منصوبے مکمل ہونے چاہئیں۔ مگر وہ تعمیر ابھی تک ادھوری ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: