உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Afghanistan Crisis: پنجشیر کے جنگجووں نے کیا 300 طالبانی کو مار گرانے کا دعویٰ، احمد مسعود کا سرینڈر سے انکار

    پنجشیر کے جنگجووں نے کیا 300 طالبانی کو مار گرانے کا دعویٰ، احمد مسعود کا سرینڈر سے انکار

    پنجشیر کے جنگجووں نے کیا 300 طالبانی کو مار گرانے کا دعویٰ، احمد مسعود کا سرینڈر سے انکار

    پنجشیر صوبہ میں احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود (Ahmad Massoud) اور خود کو افغانستان (Afghanistan) کا کیئر ٹیکر صدر اعلان کرچکے امراللہ صالح (Amrullah Saleh) طالبان کو سخت ٹکر دے رہے ہیں۔ واحد صوبہ پنجشیر ہی ہے، جہاں طالبان کے خلاف نئی قیادت بن رہی ہے، جو طالبان (Taliban) کے اقتدار کو تسلم کرنے سے انکار کررہا ہے۔

    • Share this:
      کابل: افغانستان (Afghanistan) میں کابل ایئر پورٹ اور پنجشیر وادی (Panjshir Valley) کو چھوڑ کر سبھی جگہ طالبان (Taliban) کا قبضہ ہے۔ اب طالبان پنجشیر پر بڑے حملے کی فراق میں ہے۔ طالبان کے جنگجو بھاری ہتھیاروں کے ساتھ پنجشیر پر حملہ کرنے پہنچ گئے ہیں۔ طالبان نے وارننگ دی ہے کہ اگر پُرامن طریقے سے احمد مسعود (Ahmad MassoudAhmad Massoud) کی فوج سرینڈر نہیں کریں گی، تو ان پر حملہ کیا جائے گا۔ حالانکہ احمد مسعود نے سرینڈر کرنے سے واضح طور پر انکار کردیا ہے اور جنگ کا چیلنج دیا ہے۔ اس درمیان طلوع نیوز نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ پنجشیر کے جنجگووں نے طالبان پر راستے میں گھات لگاکر حملہ کیا۔ اس حملے میں طالبان کے 300 سے زیادہ جنگجووں کو مار دیا گیا ہے۔

      طالبان نے افغانستان کے 33 صوبوں پر قبضہ کرلیا ہے۔ صرف ایک پنجشیر صوبہ ہی ایسا ہے، جہاں طالبان کا قبضہ نہیں ہے۔ پنجشیر سے متصل بغلان صوبہ کے اندراب ضلع میں گزشتہ رات بڑی تعداد میں طالبانی جنگجووں نے حملہ کیا تھا۔ یہاں کئی لوگوں کے مارے جانے کی خبر ہے۔ حملے کو دیکھتے ہوئے بغلان کے دیہہ صلاح ضلع میں مخالفین جنگجووں نے جمع ہونا شروع کردیا ہے۔

      مئات من مجاهدي #الإمارة_الإسلامية يتوجهون نحو ولاية #بنجشير للسيطرة عليها، بعد رفض مسئولي الولاية المحليين تسليمها بشكل سلمي. pic.twitter.com/FwAYBZeopq



      دراصل، پنجشیر صوبہ میں احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود (Ahmad Massoud) اور خود کو افغانستان (Afghanistan) کا کیئر ٹیکر صدر اعلان کرچکے امراللہ صالح (Amrullah Saleh) طالبان کو سخت ٹکر دے رہے ہیں۔ واحد صوبہ پنجشیر ہی ہے، جہاں طالبان کے خلاف نئی قیادت بن رہی ہے، جو طالبان (Taliban) کے اقتدار کو تسلم کرنے سے انکار کررہا ہے۔ احمد مسعود کے والد احمد شاہ مسعود بھی طالبان سے ہمیشہ لڑتے رہے ہیں۔ انہوں نے تو افغانستان سے سویت یونین کو بھی باہر کرنے میں اہم کردار نبھایا تھا۔ احمد شاہ مسعود کا قتل سال 2001 میں طالبان اور القاعدہ کے جنگجووں نے کیا تھا۔

      پنجشیر کے لوگوں کو کہنا ہے کہ وہ طالبانی طاقتوں کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ یہاں کے لوگوں کو طالبان سے خوف نہیں ہے۔ واضح رہے کہ پنجشیر وادی کی آبادی محض 2 لاکھ ہے۔ کابل کے شمال میں یہ علاقہ محض 150 کلو میٹر دور ہے۔
      پہلے بھی کرنا پڑا ہے طالبان کو شکست کا سامنا

      70 اور 80 کے دہائی میں ایک وقت ایسا آیا جب طالبان نے پنجشیر وادی کو جیتنے کے لئے پورا زور لگا دیا تھا۔ پھر بھی انہیں پنجشیر میں کامیابی نہیں ملی۔ اسی دوران جب سویت فوجیوں نے افغانستان پر حملہ کیا تھا، تب بھی پنجشیر کے جنگجووں نے انہیں شکست دی تھی۔ تاجک برادری کے رہنے والے لوگ چنگیز خان کی اولاد ہیں۔ یہ برادری مسلسل طالبانیوں کے لئے چیلنج بنا ہوا ہے۔

       پنجشیر کے لوگوں کو کہنا ہے کہ وہ طالبانی طاقتوں کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ یہاں کے لوگوں کو طالبان سے خوف نہیں ہے۔

      پنجشیر کے لوگوں کو کہنا ہے کہ وہ طالبانی طاقتوں کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ یہاں کے لوگوں کو طالبان سے خوف نہیں ہے۔


      10 ہزار جنگجو ٹکر دینے کے لئے تیار

      جلاوطن افغان صدر اشرف غنی کی حکومت میں وزیر دفاع، جنرل بسم اللہ محمدی نے اعلان کیا ہے کہ وہ پنجشیر کا تحفظ کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پنجشیر وادی طالبانی طاقتوں کی مخالفت کرتی رہے گی۔ وادی میں جنگ جاری رہے گی۔

      طالبان کے لئے مشکلات کھڑی کرسکتے ہیں پنجشیر کے جنگجو

      طالبانی بھی پنجشیر معاملے کو جلدی حل کرنے کے حق میں ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ پنجشیر کے جنگجووں کو خاموش نہیں کیا گیا تو انہیں حکومت چلانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ رپورٹس کے مطابق، طالبان کی جانب سے مذاکرات کرنے والے احمد مسعود سے مسلسل حکومت میں شامل ہونے کے لئے بات چیت کر رہے ہیں۔ ابھی کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے۔ حقانی کے دعووں کی بھی ابھی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: