உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    قندھار اور ہیرات میں بند ہندوستانی سفارت خانوں میں گھسے تھے طالبانی، کھنگالے تھے کاغذات

    طالبان (Taliban) کے جنگجو گھر گھر جاکر افغان فوجیوں اور افسران کی تلاش کر رہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق، طالبان کے جنگجو بدھ کو قندھار (Kandahar) اور ہیرات (Herat) میں بند پڑے ہندوستانی سفارت خانہ (Indian Consulates) بھی پہنچے تھے۔

    طالبان (Taliban) کے جنگجو گھر گھر جاکر افغان فوجیوں اور افسران کی تلاش کر رہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق، طالبان کے جنگجو بدھ کو قندھار (Kandahar) اور ہیرات (Herat) میں بند پڑے ہندوستانی سفارت خانہ (Indian Consulates) بھی پہنچے تھے۔

    طالبان (Taliban) کے جنگجو گھر گھر جاکر افغان فوجیوں اور افسران کی تلاش کر رہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق، طالبان کے جنگجو بدھ کو قندھار (Kandahar) اور ہیرات (Herat) میں بند پڑے ہندوستانی سفارت خانہ (Indian Consulates) بھی پہنچے تھے۔

    • Share this:
      کابل: افغانستان (Afghanistan Crisis) پر طالبان (Taliban) کے قبضے میں ہے۔ طالبان کے جنگجو گھر گھر جاکر افغان فوجیوں اور افسران کی تلاش کر رہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق، طالبان کے جنگجو بدھ کو قندھار (Kandahar) اور ہیرات (Herat) میں بند پڑے ہندوستانی سفارت خانہ (Indian Consulates) بھی پہنچے تھے۔ انہوں نے کاغذات کے لئے قندھار میں الماری کی تلاشی لی اور دونوں سفارت خانوں سے پارک کئے گئے کار بھی لے گئے۔

      اسکائی نیوز کی رپورٹ میں یہ اطلاع دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، طالبان کے لوگ کابل میں گھر گھر جاکر تلاشی لے رہے ہیں، جس سے کہ این ڈی ایس خفیہ ایجنسی کے لئے کام کرنے والے افغانیوں کی شناخت کی جاسکے۔ فی الحال جلال آباد میں ہندوستانی سفارت خانہ اور کابل میں مشن پر رپورٹ دستیاب نہیں ہے۔

      رپورٹ کے مطابق، طالبان کے لوگ کابل میں گھر گھر جاکر تلاشی لے رہے ہیں، جس سے کہ این ڈی ایس خفیہ ایجنسی کے لئے کام کرنے والے افغانیوں کی شناخت کی جاسکے۔
      رپورٹ کے مطابق، طالبان کے لوگ کابل میں گھر گھر جاکر تلاشی لے رہے ہیں، جس سے کہ این ڈی ایس خفیہ ایجنسی کے لئے کام کرنے والے افغانیوں کی شناخت کی جاسکے۔


      کابل سے آنے والی رپورٹوں کے مطابق، ایسا مانا جا رہا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کے تقریباً 6,000 کیڈر نے دہشت گردانہ گروہوں کے سربراہ اور طالبان کے نائب لیڈر سراج الدین حقانی کے بھائی انس حقانی کی قیادت میں کابل پر کنٹرول کرلیا ہے۔ اس کے حکم پر ہی سفارت خانہ پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ اس درمیان انس حقانی نے سابق صدر حامد کرزئی، صدر ایچ سی این آر عبداللہ عبداللہ اور حزب اسلامی کے عظیم گلبدین حکمت یار سے ملاقات بھی کی تھی۔

      یہ مانا جا رہا ہے کہ حامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ دونوں کی آمدورفت کو طالبان کے ذریعہ پابندی اور کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ راشٹرپتی بھون میں طالبان لیڈر ملا عبدالغنی برادر کو رسمی طور پر اقتدار سونپنے کے لئے حامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ دونوں سے بات چیت کی جارہی ہے۔ ایسا بتایا جا رہا ہے کہ سراج الدین حقانی کوئٹہ سے حکم دے رہے ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: