உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغان خواتین کا دعویٰ- طالبان کے تمام وعدے کھوکھلے، نہیں بدلا ان کا رویہ

    Afghanistan Crisis: کئی افغان خاتون صحافیوں نے کہا ہے کہ طالبان انہیں کام کرنے کی اجازت نہیں دے رہا ہے، جبکہ طالبان کے بڑے لیڈروں نے کہا تھا کہ وہ کسی کے خلاف بدلے کے جذبے سے کام نہیں کرے گا۔

    Afghanistan Crisis: کئی افغان خاتون صحافیوں نے کہا ہے کہ طالبان انہیں کام کرنے کی اجازت نہیں دے رہا ہے، جبکہ طالبان کے بڑے لیڈروں نے کہا تھا کہ وہ کسی کے خلاف بدلے کے جذبے سے کام نہیں کرے گا۔

    Afghanistan Crisis: کئی افغان خاتون صحافیوں نے کہا ہے کہ طالبان انہیں کام کرنے کی اجازت نہیں دے رہا ہے، جبکہ طالبان کے بڑے لیڈروں نے کہا تھا کہ وہ کسی کے خلاف بدلے کے جذبے سے کام نہیں کرے گا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: افغانستان پر طالبان (Taliban Capture Afghanistan) کے قبضے کے بعد پورے ملک میں افراتفری کا ماحول ہے۔ ایکسپرٹ اور سماجی کارکن کے مطابق، افغانستان پھر سے خواتین کے لئے ایک بے حد خطرناک جگہ بن گیا ہے۔ گزشتہ کچھ ہفتوں سے تشدد کی خبریں آرہی ہیں۔ اس درمیان ہزاروں لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی کا کہنا ہے کہ مئی کے آخر سے اب تک جو لوگ بھاگے ہیں، ان میں سے تقریباً 80 فیصد خواتین اور بچے ہیں۔

      کابل پر 15 اگست کو قبضے کے بعد طالبان کے بڑے لیڈروں نے کہا تھا کہ وہ کسی کے خلاف بدلے کے جذبہ سے کام نہیں کرے گا۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ اب ملک میں خواتین کی حصہ داری میں اضافہ ہوگا، لیکن اب خبریں آرہی ہیں کہ طالبان کے جنگجو گھر گھر تلاشی لے رہے ہیں۔ وہ ایسے لوگوں کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں، جس نے امریکہ اور افغان حکومت کی مدد کی۔ آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں کہ افغان خواتین طالبان کے بارے میں کیا کہہ رہی ہیں...۔

      20 سال کی لڑائی کے بعد یہ حال

      ایک گمنام افغان خاتون نے ’دی گارجین‘ میں لکھا ہے، ’مجھے امید نہیں تھی کہ ہم پھر سے اپنے سبھی بنیادی حقوق سے محروم ہوجائیں گے اور 20 سال پرانے دور میں لوٹ جائیں گے۔ افسران اور آزادی کے لئے 20 سال کی لڑائی کے بعد، ہمیں برقع کی تلاش کرنی پڑ رہی ہے۔ ہمیں اپنی پہچان چھپانی پڑ رہی ہے۔

      کابل پر 15 اگست کو قبضے کے بعد طالبان کے بڑے لیڈروں نے کہا تھا کہ وہ کسی کے خلاف بدلے کے جذبہ سے کام نہیں کرے گا۔
      کابل پر 15 اگست کو قبضے کے بعد طالبان کے بڑے لیڈروں نے کہا تھا کہ وہ کسی کے خلاف بدلے کے جذبہ سے کام نہیں کرے گا۔


      نیوز اینکر کو روکنے کا الزام

      کئی افغان خواتین صحافیوں نے کہا ہے کہ طالبان نے انہیں کام کرنے کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔ آر ٹی اے (ریڈیو ٹیلی ویژن افغانستان) کی ایک اینکر شبنم داوران نے کہا کہ وہ اپنے آفس میں داخل نہیں ہوسکیں۔ انہوں نے کہا، ’میں کام پر لوٹنا چاہتا تھا، لیکن بدقسمتی سے انہوں نے مجھے کام نہیں کرنے دیا۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ اقتدار بدل گیا ہے اور آپ کام نہیں کرسکتے ہیں‘۔

      خاتون صحافیوں کی انٹری پر پابندی

      ایک دیگر صحافی خدیہ نے بھی کہا کہ طالبان نے انہیں اپنے دفتر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔ خدیجہ نے طلوع نیوز سے کہا، ’ہم نے اپنے ایک ڈائریکٹر سے بات کی، جسے طالبان نے مقرر کیا ہے۔ پروگرام میں تبدیلی کی گئی ہے۔ وہ اپنے من سے پروگرام نشر کر رہے ہیں۔ کوئی خاتون نشر کرنے والی اور صحافی نہیں ہیں۔ کئی خواتین نے کہا ہے کہ انہیں خوف ہے کہ طالبان شریعت کے لحاظ سے کام کرے گا۔ لڑکیوں کو اسکول جانے نہیں دے گا۔ طالبان نے 1996 سے 2001 تک افغانستان میں اپنے پہلے اقتدار کے دوران بربریت سے اپنے فرمان کو نافذ کیا۔ اکیلے گھر سے نکلنے پر خواتین کو عوامی طور پر پیٹا جاتا تھا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: