உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جرمنی میں پزا ڈیلیوری کر رہے ہیں افغانستان کے یہ سابق وزیر ، طالبان کے ڈر سے چھوڑنا پڑا تھا ملک

    جرمنی میں پزا ڈیلیوری کر رہے ہیں افغانستان کے یہ سابق وزیر ، طالبان کے ڈر سے چھوڑنا پڑا تھا ملک (AP)

    جرمنی میں پزا ڈیلیوری کر رہے ہیں افغانستان کے یہ سابق وزیر ، طالبان کے ڈر سے چھوڑنا پڑا تھا ملک (AP)

    تصویر دیکھ کر یقین کرنا مشکل ہے کہ چاروں طرف سیکورٹی کے سخت پہرہ میں رہنے والے سید احمد شاہ سادات آج پزا ڈیلیوری کا کام کرنے پر مجبو رہیں ۔

    • Share this:
      برلن : افغانستان پر طالبان کے قبضہ کے بعد صدر اشرف غنی سمیت سیاستداں اور وزرا ملک چھوڑ کر فرار ہوگئے ہیں ، ان میں سے کئی لوگ اب عام لوگوں کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ افغانستان کے مواصلات کے سابق وزیر کی ایک ایسی تصویر سامنے آئی ہے ، جس پر یقین کرنا مشکل ہے ۔ سابق وزیر سید احمد شاہ سادات نے جرمنی کے لپجگ شہر میں پناہ لی ہے ۔ سید احمد یہاں گزشتہ دو ماہ سے پزا ڈیلیوری بوائے کا کام کر رہے ہیں ۔

      تصویر دیکھ کر یقین کرنا مشکل ہے کہ چاروں طرف سیکورٹی کے سخت پہرہ میں رہنے والے سید احمد شاہ سادات آج پزا ڈیلیوری کا کام کرنے پر مجبو رہیں ۔ نیوز ایجنسی رائٹرس کی جانکاری کے مطابق سید احمد شاہ سادات 2020 دسمبر میں ہی کابل چھوڑ کر جرمنی چلے گئے تھے ۔ سادات کافی پڑھے لکھے بھی ہیں ۔ انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے کمیونیکیشن میں MScs کیا ہے ۔ ساتھ ہی وہ الیکٹریکل انجینئر بھی ہیں ۔

      سید احمد شاہ نے دنیا بھر کے تیرہ بڑے شہروں میں 23 سال الگ الگ طرح کے کام کئے ہیں ، لیکن شاید ملک چھوٹا تو قسمت نے بھی ساتھ چھوڑ دیا ۔ اتنا تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود وہ گھر گھر پزا پہنچانے کیلئے مجبور ہیں ۔

      سید احمد یہاں گزشتہ دو ماہ سے پزا ڈیلیوری بوائے کا کام کر رہے ہیں ۔
      سید احمد یہاں گزشتہ دو ماہ سے پزا ڈیلیوری بوائے کا کام کر رہے ہیں ۔


      سید احمد شاہ نے ایک نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شروعاتی دنوں میں مجھے اس شہر میں رہنے کیلئے کوئی کام نہیں مل رہا تھا ، کیونکہ مجھے جرمن زبان نہیں آتی ہے ۔ پزا ڈیلیوری کا کام فی الحال میں صرف جرمن زبان سیکھنے کیلئے کررہا ہوں ۔ اس نوکری کے ذریعہ شہر کے الگ الگ حصوں میں گھوم کر لوگوں سے مل رہا ہوں ، تاکہ آنے والے دنوں میں خود کو نکھار کر دوسری نوکری پاسکوں ۔

      بتادیں کہ طالبان کے قبضہ کے بعد سے افغانستان میں بینکنگ اور ہیلتھ خدمات بدحال ہیں ۔ اے ٹی ایم خالی ہیں ۔ کھانے پینے ، دوائی سے لے کر ہر ضروری اشیا کی قیمتیں تین گنا تک بڑھ گئی ہیں ۔ بڑی تعداد میں خاتون نرس کام پر نہیں لوٹی ہیں ۔ ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ کابل ایئرپورٹ پر عائد پابندی کی وجہ سے 500 ٹن سے زیادہ میڈیکل سپلائی افغانستان نہیں پہنچ پارہی ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: