உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بھکمری سے مر رہی ہے 80فیصد افغان آبادی، لوگ بیکری سے چرا رہے بریڈ یا کر رہے ہیں خودکشی

    کھمبھے سے بندھے دو نابالغ بچوں کی تصویر شیئر کی ہے جنہیں طالبان نے بیکری سے بریڈ چوری کرنے کے جرم میں پکڑا ہے۔

    کھمبھے سے بندھے دو نابالغ بچوں کی تصویر شیئر کی ہے جنہیں طالبان نے بیکری سے بریڈ چوری کرنے کے جرم میں پکڑا ہے۔

    ایک ٹویٹ میں حزب اللہ خان نے کھمبھے سے بندھے دو نابالغ بچوں کی تصویر شیئر کی ہے جنہیں طالبان نے بیکری سے بریڈ چوری کرنے کے جرم میں پکڑا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      کابل۔ افغانستان میں طالبان  (Taliban in Afghanistan)  کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ملک کی معیشت  (Economy) تباہ ہو گئی ہے۔ لوگوں کے کاروبار تیزی سے بند ہو رہے ہیں۔ ملک کا پیسہ غیر ملکی اداروں اور امریکہ نے فریز کر دیا ہے۔ ایسی صورتحال میں لوگوں کے سامنے اشیائے ضروریات یعنی کھانے۔پینے (Food Crisis) تک کی چیزوں کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے یا ان کے پاس اسے خریدنے کے لیے پیسے بھی نہیں ہیں۔

      افغانستان کے آزاد صحافی حزب اللہ خان  (Hizbullah Khan)  اپنے ٹویٹس کے ذریعے دنیا کو ملک کے تازہ ترین حالات سے مسلسل آگاہ کر رہے ہیں۔ ایک ٹویٹ میں ، انہوں نے  کھمبھے سے بندھے دو نابالغ بچوں کی تصوی شیئر کی ہے جنہیں طالبان نے بیکری سے بریڈ چوری کرنے کے جرم میں پکڑا ہے۔





      لوگ بھوک کی وجہ سے کر رہے ہیں خودکشی
      حزب اللہ خان بتاتے ہیں کہ اس وقت ملک کی 80 فیصد آبادی شدید بھکمری کے دور سے گزر رہی ہے اور یہ سب کچھ طالبان حکومت کی ناکامی کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پچھلے دو دنوں میں افغانستان کے مختلف صوبوں میں تقریبا 5 5 افراد نے بھوک کی وجہ سے خودکشی کرلی ہے۔

      غور طلب ہے کہ طالبان (Taliban)  کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان  (Afghanistan)  کے حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ طالبان نے شرعی قوانین کے تحت لوگوں کو وحشیانہ سزا دینا بھی شروع کر دی ہے۔ تازہ ترین تصویر ہیرات کی ہے  جہاں ایک شخص کو طالبان نے قتل کرنے کے بعد سرعام پھانسی پر لٹکا دیا ہے۔

      اس واقعے کی ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے۔ اسے افغان صحافی حزب اللہ خان نے ٹویٹ کیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ 'طالبان نے شہروں میں سرعام سزائے موت دینا شروع کر دی ہے۔ یہ ہیرات کا معاملہ ہے۔ (ویڈیو دیکھئیے)



      کابل میں بچے بیچ رہے ہیں کنبے۔۔
      افغانستان کے عوام کو ایک ماہ میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کاروبار بند ہو چکے ہیں۔ جی ڈی پی بری حالت میں ہے۔  ملک کے اثاثے پہلے ہی غیر ملکی اداروں اور امریکہ نے منجمد کر رکھے ہیں۔ اقوام متحدہ پہلے ہی افغانستان میں بھوک مری سے لوگوں کی موت کا اعلان کر چکا ہے۔ ایسے میں کابل میں غریب خاندان اپنے بچے بیچنے پر مجبور ہیں۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔



      ویڈیو میں کیا ہے؟
      یہ ویڈیو افغان صحافی حزب اللہ خان نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے شیئر کی ہے۔ انہوں نے ٹویٹ کیا ، افغانستان کا یہ افسوسناک منظر، لوگ غربت کی وجہ سے اب اپنے بچے بیچنے کو مجبور ہیں۔ اس میں ایک شخص اپنی گود میں بچے کو پکڑ رہا ہے اور دوسرے ہاتھ میں بچے کا ہاتھ پکڑ رہا ہے۔ وہ پختون میں کچھ بڑبڑا کر رہا ہے۔ اس دوران ایک عورت زمین پر بیٹھی نظر آرہی ہے جو برقعے میں ہے۔ وہ شاید اس آدمی کی بیوی ہے۔ ایک آدمی اپنی گود کا بچہ اپنی بیوی کو دیتا ہے۔

      کون ہے حزب اللہ خان؟
      حزب اللہ خان افغانستان کے سینئر صحافی ہیں۔ ان کے عالمی اخبارات جیسے یروشلم پوسٹ ، دی انڈیپنڈنٹ ، دی گلوب پوسٹ ، دی ڈپلومیٹ میں مضامین شائع ہوتے ہیں۔ وہ افغانستان کے تازہ ترین حالات پر مسلسل دنیا کے تمام بڑے اخبارات کو رپورٹس بھیج رہے ہیں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: