உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغانستان کے تین بڑے شہروں میں افغان فورسیز اور طالبان کے درمیان شدید جھڑپیں، مگر یہ شہر ہے انتہائی اہم

    افغانستان کے تین بڑے شہروں میں افغان فورسیز اور طالبان کے درمیان شدید جھڑپیں، مگر یہ شہر ہے انتہائی اہم

    لشکر گاہ میں گزشتہ ایک ہفتے سے جاری لڑائی کے نتیجے میں ہزاروں افراد محفوظ مقامات کی جانب نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ترکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اگر لشکر گاہ افغان حکومت کے ہاتھ سے نکل گیا تو یہ سنہ 2016 کے بعد طالبان کے کنٹرول میں آنے والا پہلا صوبائی دارالخلافہ ہو گا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      کابل : امریکی اور دیگر بین الاقوامی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد طالبان اور افغان سیکورٹی فورسز کے درمیان ملک کے مخلتف حصوں میں لڑائی میں شدت آئی ہے اور افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند کے اہم شہر لشکرگاہ میں طالبان اور افغان فورسز کے درمیان گھمسان کی لڑائی جاری ہے۔ اس وقت طالبان افغان صوبے ہلمند ، قندھار اور ہرات پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور طالبان کی جانب سے حملوں میں تیزی آئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ لشکر گاہ پر قبضہ طالبان کے لیے ایک بہت بڑی علامتی کامیابی ہوگی۔

      لشکر گاہ میں گزشتہ ایک ہفتے سے جاری لڑائی کے نتیجے میں ہزاروں افراد محفوظ مقامات کی جانب نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ترکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اگر لشکر گاہ افغان حکومت کے ہاتھ سے نکل گیا تو یہ سنہ 2016 کے بعد طالبان کے کنٹرول میں آنے والا پہلا صوبائی دارالخلافہ ہو گا۔

      اس کے علاوہ افغانستان کے مغربی شہر ہرات اور جنوب میں صوبہ ہلمند کے مرکزی شہر لشکرگاہ میں شدید لڑائی کے بعد طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ان بڑے شہروں کے مختلف حصوں پر قابض ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب افغان سیکورٹی فورسز کا دعویٰ ہے کہ کچھ جگہوں پر قبضے کے بعد کل سے طالبان کو ان شہروں سے واپس پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔

      افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند کے اہم شہر لشکرگاہ میں طالبان اور افغان فورسز کے درمیان گھمسان کی لڑائی جاری ہے۔
      افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند کے اہم شہر لشکرگاہ میں طالبان اور افغان فورسز کے درمیان گھمسان کی لڑائی جاری ہے۔


      مغربی شہر ہرات میں افغان حکام نے کہا ہے کہ سیکورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان شہر کے اندر لڑائی جاری ہے ، لیکن اُن کے مطابق گزشتہ رات سے طالبان کے کئی ٹھکانوں پر فضائی بمباری بھی کی گئی ہے اور اُن کی شہر میں داخلے کی کوششوں کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔

      دوسری جانب طالبان ترجمان کا دعویٰ ہے کہ اُن کے جنگجو آج بھی ہرات شہر میں موجود ہیں اور اُن کے صرف پانچ جنگجو افغان فورسز کے حملوں میں مارے گئے ہیں۔ طالبان کی جانب سے ہرات اور ہلمند میں افغان فورسز کو بھاری نقصانات پہنچانے کے دعوے کیے گئے ہیں ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: