ہوم » نیوز » عالمی منظر

افغانستان : چار ماہ کے دوران 24 ہزار طالبان مارے گئے ، پانچ ہزار سے زائد عام شہری جاں بحق

افغانستان میں امن و امان کی وزارت کے ایک عہدیدار سید عبداللہ ہاشمی نے بتایا کہ معلوم ہوا ہے کہ ملک میں تشدد کے لیے 10 ہزار سے زائد جنگجوؤں کو باہر سے بلایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے تنازعے کے پیچھے غیر ملکی بھی ہیں۔

  • UNI
  • Last Updated: Jul 30, 2021 05:31 PM IST
  • Share this:
افغانستان : چار ماہ کے دوران 24 ہزار طالبان مارے گئے ، پانچ ہزار سے زائد عام شہری جاں بحق
افغانستان : چار ماہ کے دوران 24 ہزار طالبان مارے گئے ، پانچ ہزار سے زائد عام شہری جاں بحق

کابل : افغانستان میں امن و امان کی وزارت کے تشدد پر نظر رکھنے والے محکمہ نے کہا ہے کہ گزشتہ چار ماہ کے دوران ملک میں لڑائی میں کم از کم 24000 طالبان اور 5000 سے زائد عام شہری مارے گئے ہیں ۔ اپریل سے جولائی کے درمیان طالبان نے ملک کے مختلف حصوں میں 22000 حملے کیے ۔ جمعرات کو تشدد پر نظر رکھنے والے محکمہ کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 24000 طالبان جنگجو ہلاک اور زخمی ہوگئے۔


وزارت کے ایک عہدیدار سید عبداللہ ہاشمی نے بتایا کہ معلوم ہوا ہے کہ ملک میں تشدد کے لیے 10 ہزار سے زائد جنگجوؤں کو باہر سے بلایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے تنازعے کے پیچھے غیر ملکی بھی ہیں۔ دریں اثنا اعلیٰ قومی مصالحتی کونسل (ایچ سی این آر) کے نائب سربراہ عطاء اللہ سلیم نے کہا کہ افغانستان میں موجودہ تنازع کی کوئی مذہبی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان تشدد ختم کریں۔


طالبان قیدیوں کے معاملہ پر عطاء اللہ سلیم نے کہا کہ ہم قیدیوں کے مسئلے ، آئین پر بحث اور بلیک لسٹ سے ناموں کو نکالنے سمیت تمام مسائل پر بحث کی حمایت کرتے ہیں۔ تاہم ابھی تک طالبان کی جانب سے ہلاکتوں کے اعداد و شمار پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔


زابل میں مارٹر حملے میں پانچ شہری ہلاک

ادھرافغانستان کے صوبہ زابل میں مارٹر حملے میں پانچ شہری ہلاک اور 12 زخمی ہوگئے۔ ہیلتھ افسر نے یہ اطلاع دی ہے۔ عہدیدار نے بتایا کہ جمعرات کی شام قلات کے نواح میں سرکاری سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپوں کے دوران گھروں پر مارٹر گرنے سے کم از کم پانچ شہری ، جن میں تین بچے اور دو خواتین شامل ہیں ، ہلاک ہوگئے۔

زابل اسپتال کے چیف ڈاکٹر نذیر حریفل نے بتایا کہ اس واقعہ میں 12 افراد زخمی ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ زابل پولیس نے اس واقعہ کیلئے طالبان کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ وہیں ابھی تک طالبان کی جانب سے اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 30, 2021 05:31 PM IST