உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغانستان : کابل ایئر پورٹ پر دھماکوں میں چار امریکی فوجیوں کی بھی موت، طالبان نے دیا یہ بڑا بیان

    افغانستان : کابل ایئر پورٹ دھماکوں میں چار امریکی فوجیوں کی بھی موت، طالبان نے دیا یہ بڑا بیان

    افغانستان : کابل ایئر پورٹ دھماکوں میں چار امریکی فوجیوں کی بھی موت، طالبان نے دیا یہ بڑا بیان

    میڈیا رپورٹس کے مطابق کابل دھماکے کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن اور اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینٹ کی ملاقات ملتوی کر دی گئی ہے، جب کہ جو بائیڈن امریکی وزیر دفاع اور وزیر خارجہ کے ساتھ مانیٹرنگ روم میں موجود ہیں، جہاں سے کابل کی صورت حال کو مانیٹر کیا جا رہا ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      کابل : افغانستان کے کابل ایئرپورٹ کے باہر زبردست دو دھماکوں کے نتیجے میں بچوں سمیت 13 افراد جاں بحق اور طالبان کے گارڈز سمیت 60 افراد زخمی ہوگئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مہلوکین میں چار امریکی فوجی اہلکار بھی شامل ہیں ۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق طالبان کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ کابل ایئرپورٹ کے باہر ہونے والے دھماکے میں بچوں سمیت 13 افراد جاں بحق ہوگئے اور طالبان کے گارڈز سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

      پنٹاگن کے ترجمان کے مطابق کابل ایئر پورٹ پر پہلا دھماکہ گاڑی میں نصب بم کا تھا، جب کہ دوسرا دھماکہ خود کش تھا، پہلا دھماکہ بیرن ہوٹل کے قریب ہوا، بیرن ہوٹل ایئر پورٹ کے آبے گیٹ کے قریب ہے، جب ہجوم جمع ہوا تو دوسرا دھماکا ایئر پورٹ کے گیٹ پر ہوا۔ جان کربی نے ایک ٹویٹ میں بتایا ہے کہ کابل ایئر پورٹ کے گیٹ پر ہونے والا دھماکہ زور دار تھا، اس دھماکے میں کئی امریکی اور عام افراد کی ہلاکتیں ہوئی ہیں ۔

      عالمی میڈیا کے مطابق دھماکوں میں 13 ہلاکتیں ہوئی ہیں، تاہم صحیح صورت حال ابھی معلوم نہیں ہو سکی ہے، خدشہ ہے کہ ہلاکتیں دو درجن کے قریب ہیں، کابل اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دھماکے کے 60 زخمی اسپتال لائے گئے، زخمیوں میں طالبان کے سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔

      کابل ایئرپورٹ کے باہر ہونے والے دھماکے میں بچوں سمیت 13 افراد جاں بحق ہوگئے ۔


      طالبان نے دھماکوں کی شدید مذمت کی 

      دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹویٹ میں کہا ہے کہ امارت اسلامیہ کابل ایئر پورٹ پر شہریوں کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتی ہے ۔ دھماکے ایک ایسے علاقے میں ہوئے جہاں سیکورٹی امریکی افواج کے ہاتھ میں ہے، انھوں نے کہا کہ امارت اسلامیہ اپنے لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے پر بھرپور توجہ دے رہی ہے، اور شر پسند حلقوں کو سختی سے روکا جائے گا۔

      وہیں افغان صحافی بلال سروری نے ٹوئٹ میں بتایا ہے کہ دھماکے کے وقت ائیرپورٹ سے متصل نالے میں افغان شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی جو کہ وہاں اپنے کاغذات کی جانچ پڑتال کرانا چاہ رہے تھے ۔ عینی شاہدین کے مطابق اس دوران ایک خود کش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جب کہ ایک اور حملہ آور نے فائرنگ شروع کردی۔

      دریں اثناء کابل ایئر پورٹ پر دو دھماکوں نے دنیا کے طاقت ور ممالک کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔دھماکوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ مبینہ طور پر داعش کی جانب سے کیے گئے ہیں ۔ جرمن وزیر دفاع نے کہا کہ اطلاعات ہیں کہ داعش خود کش حملہ آور کابل جا رہے ہیں ۔

      امریکی صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم کی ملاقات ملتوی

      پاکستانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق کابل دھماکے کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن اور اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینٹ کی ملاقات ملتوی کر دی گئی ہے، جب کہ جو بائیڈن امریکی وزیر دفاع اور وزیر خارجہ کے ساتھ مانیٹرنگ روم میں موجود ہیں، جہاں سے کابل کی صورت حال کو مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ ڈاؤننگ اسٹریٹ کے ذرائع کے مطابق برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کابل دھماکے کے بعد کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے ۔ برطانوی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ واقعہ میں کسی برطانوی اہل کار کی ہلاکت کی اطلاع نہیں ہے۔

       (Image: AFP)
      (Image: AFP)


      فرانس کی اپنے سفیر کو کابل سے نکلنے کی ہدایت

      وہیں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کابل میں اور ایئر پورٹ کے اطراف صورت حال خطرناک ہے، فرانسیسی سفیر کابل سے نکل جائیں، سفرا اب پیرس سے خدمات انجام دیں گے۔

      انخلا کا عمل جاری رہنا چاہئے : نیٹو

      ادھر نیٹو سربراہ نے بیان میں کہا ہے کہ دہشت گرد حملے کے بعد بھی کابل سے انخلا کا عمل جاری رہنا چاہیے، تاہم نیٹو نے اپنے تمام فوجیوں کو کابل ایئر پورٹ کا گیٹ چھوڑنے کی ہدایت کر دی ہے۔ نیدرلینڈ کے وزیر اعظم مارک رُتے نے کابل دھماکوں پر ردِ عمل میں کہا ہے کہ ہم اپنے تمام شہریوں کو افغانستان سے نہیں نکال سکیں گے، اپنے شہریوں کو افغانستان سے نکالنے کے لیے یورپ سے رابطے میں ہیں۔

      واضح رہے کہ طالبان کے قبضے میں آئے ہوئے افغانستان کے دارالحکومت کابل پر اس وقت ساری دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں، ایک جانب نیٹو فوجی مکمل انخلا کے منتظر ہیں، دوسری طرف متعدد ممالک کے شہری کابل میں پھنسے ہوئے ہیں، جب کہ افغان شہری بھی بڑی تعداد میں اپنا ملک چھوڑ کر دیگر ممالک میں پناہ حاصل کرنے کے متمنی ہیں۔

      خیال رہے کہ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب کابل کے حامد کرزئی بین الاقوامی ائیرپورٹ پر ہزاروں افغان شہری ملک سے فرار ہونے کے لیے جمع ہیں۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: