ہوم » نیوز » عالمی منظر

طالبان سے بات چیت ناکام رہی تو مانگ سکتے ہیں ہندوستان سے مدد: افغانستان کے سفیر کا اعلان

طالبان نے افغانستان کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کرنا شروع کردیا ہے۔ ایسے میں حکومت اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان بات چیت چل رہی ہے۔ حالانکہ مانا جاتا ہے کہ دوحہ میں ہو رہی امن وامان کی میٹنگ کافی حد تک ناکام ہوگئی ہے اور طالبان اب پوری طرح سے فوجی جیت کے لئے تیار ہے۔

  • Share this:
طالبان سے بات چیت ناکام رہی تو مانگ سکتے ہیں ہندوستان سے مدد: افغانستان کے سفیر کا اعلان
طالبان سے بات چیت ناکام رہی تو مانگ سکتے ہیں ہندوستان سے مدد: افغانستان کے سفیر کا اعلان

نئی دہلی: افغانستان (Afghanistan) سے امریکی فوج (US Forces) کے لوٹنے کے بعد سے وہاں کے بیشتر علاقوں میں پھر سے طالبان (Taliban) نے قبضہ کرلیا ہے۔ ایسے میں پورے ملک میں حالات تشویشناک ہیں۔ اس درمیان ہندوستان میں افغانستان کے سفیر نے کہا ہے کہ مستقبل میں اگر طالبان سے بات چیت ناکام رہتی ہے تو ان کا ملک ہندوستانی فوج (Indian Army) سے مدد طلب کرسکتا ہے۔ حالانکہ انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ مدد فوج کو افغانستان بلانے کے طور پر نہیں بلکہ ٹریننگ اور تکنیکی مدد کے طور پر لی جائے گی۔


اس وقت طالبان نے افغانستان کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کرنا شروع کردیا ہے۔ ایسے میں حکومت اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان بات چیت چل رہی ہے۔ حالانکہ مانا جاتا ہے کہ دوحہ میں ہو رہی امن وامان کی میٹنگ کافی حد تک ناکام ہوگئی ہے اور طالبان اب پوری طرح سے فوجی جیت کے لئے تیار ہے۔


افغانستان کے سفیر فرید مامندزے نے میڈیا سے کہا ہے، ’اگر ہم طالبان کے ساتھ امن کے عمل میں ناکام ہوتے ہیں، تو ہوسکتا ہے کہ ہم ہندوستانی فوج کی مدد طلب کریں گے‘۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان میں ان کے پائلٹوں کو ٹریننگ دی جائے۔


افغانستان (Afghanistan) سے امریکی فوج (US Forces) کے لوٹنے کے بعد سے وہاں کے بیشتر علاقوں میں پھر سے طالبان (Taliban) نے قبضہ کرلیا ہے۔
افغانستان (Afghanistan) سے امریکی فوج (US Forces) کے لوٹنے کے بعد سے وہاں کے بیشتر علاقوں میں پھر سے طالبان (Taliban) نے قبضہ کرلیا ہے۔


افغانی سفیر کا کہنا ہے کہ ہندوستان نے بھی پھر سے دو اہم معاملوں میں ہماری مدد کی ہے۔ ہندوستان نے ہمارے کیڈیٹ کے لئے فوجی ٹریننگ اور اسکالر شپ فراہم کرنے میں مدد کی ہے۔ شہری معاملات میں انہوں نے ہندوستان کے ذریعہ دی جانے والی 1,000 سالانہ اسکالر شپ، ہندوستان میں پڑھ رہے تقریباً 20000 افغانی طلبا کی مدد، نئی افغان پارلیمنٹ کی تعمیر اور دیگر بنیادی ڈھانچہ کے منصوبوں کے علاوہ باندھوں کی تعمیر کے بارے میں بتایا۔

افغانستان کے سفیر نے کہا کہ افغانستان میں موجودہ حالات بہت سنگین اور مسائل سے دوچار ہیں۔ سرکاری اہلکار سرگرم طور پر 376 اضلاع میں سے 150 میں طالبان سے لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس لئے ملک کا ایک تہائی حصہ سرگرم لڑائی میں ہے۔ صرف اپریل 2021 سے ملک میں دو لاکھ سے زیادہ لوگ داخلی طور پر بے گھر ہوئے ہیں، جس میں تقریباً 4,000 لوگ مارے جاچکے ہیں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 14, 2021 03:57 PM IST