உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغانستان مسجد دھماکہ: دہشت گرد تنظیم آئی ایس-خراسان نے لی حملے کی ذمہ داری، اب تک 46 افراد جاں بحق

    افغانستان مسجد دھماکہ: دہشت گرد تنظیم آئی ایس-خراسان نے لی حملے کی ذمہ داری، اب تک 46 افراد جاں بحق

    افغانستان مسجد دھماکہ: دہشت گرد تنظیم آئی ایس-خراسان نے لی حملے کی ذمہ داری، اب تک 46 افراد جاں بحق

    Afghanistan Mosque Attack: طالبان کے ترجمان بلال کریمی نے ایسوسی ایٹیڈ پریس کو بتایا کہ 46 نمازیوں کی موت ہوگئی جبکہ 143 لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی جانچ جاری ہے۔

    • Share this:
      کابل: دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ خراسان (IS-K) نے افغانستان میں مسجد میں ہوئے بم دھماکے (Afghanistan Mosque Attack) کی ذمہ داری لی ہے۔ شمالی افغانستان میں شیعہ مسلم نمازیوں سے بھری ایک مسجد میں جمعہ کے روز بم دھماکہ ہوا تھا۔ اس حملے میں کم از کم 46 لوگوں کے جاں بحق ہونے اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ آئی ایس سے جڑی اماک نیوز ایجنسی نے قندوز صوبہ میں مسجد میں دوپہر کی نماز کے دوران ہوئے دھماکہ کے کچھ گھنٹے بعد اس دعوے کی جانکاری دی۔ واضح رہے کہ اسلامک اسٹیٹ خراسان نے ہی اگست کے آخری ہفتے میں کابل ایئر پورٹ پر حملہ کیا تھا۔

      اپنے ٹیلی گرام چینلوں پر جاری ایک بیان میں، ’جہادی گروپ- اسلامک اسٹیٹ کے ایک معاون نے کہا کہ اس کے خود کش حملے نے ایک مسجد کے اندر جمع ہوئے شیعہ مسلمانوں کی ایک بھیڑ کو نشانہ بنایا۔ حملہ آور نے ایک دھماکہ خیز مادہ والی بنیان پہن رکھی تھی۔

      کیا ہے حملے کی وجہ؟

      اپنے دعوے میں آئی ایس نے خود کش حملہ آور کی پہچان ایک ایغور مسلم کے طور پر کی اور کہا کہ حملے میں شیعہ مسلمان اور طالبان دونوں کو نشانہ بنایا گیا، جو کہ چین سے ایغور مسلمانوں کے مطالبات کو پورا کرنے میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ طالبان کے ترجمان بلال کریمی نے ایسوسی ایٹیڈ پریس کو بتایا کہ 46 نمازیوں کی موت ہوگئی جبکہ 143 لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی جانچ جاری ہے۔

      شیعہ مسلمانوں کو کیوں بنایا نشانہ؟

      اسلامک اسٹیٹ گروپ کے دہشت گردوں کا افغانستان کے شیعہ مسلم اقلیتوں پر حملہ اس سے پہلے ہوا ہے۔ جمعہ کو جن لوگوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، وہ ہزارا طبقے سے ہیں۔ کہا جاتا ہے سنی اکثریتی ملک میں طویل عرصے سے انہیں بھید بھاو کا شکار بنایا جاتا ہے۔ یہ حملہ امریکہ اور ناٹو افواج کی اگست میں واپسی اور ملک پر طالبان کے قبضے کے بعد ایک خطرناک حملہ ہے۔

      نماز کے دوران دھماکہ

      غوزر سید آباد مسجد میں جمعہ کی نماز کے دوران دھماکہ ایسے وقت میں ہوا ہے، جب طالبان اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کے لئے سیکورٹی کا یہ ایک نیا چیلنج ہے۔ عینی شاہد علی رضا نے بتایا کہ وہ دھماکہ کے وقت نماز ادا کر رہے تھے اور انہوں نے کئی لوگوں کو ہلاک ہوتے ہوئے دیکھا۔ جائے حادثہ کی تصاویر اور ویڈیو میں سیکورٹی اہلکار مسجد سے کمبل میں لپٹی ہوئی لاشوں کو ایمبولینس میں رکھتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: