உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغانستان : کابل میں وزارت کے پاس مسجد میں دھماکہ، تین افراد کی موت، 25 زخمی

    افغانستان : کابل میں وزارت کے پاس مسجد میں دھماکہ، تین افراد کی موت، 25 زخمی (File Reuters)

    افغانستان : کابل میں وزارت کے پاس مسجد میں دھماکہ، تین افراد کی موت، 25 زخمی (File Reuters)

    Afghanistan Blast: افغانستان کی راجدھانی کابل میں وزارت کے پاس موجود مسجد میں دھماکہ ہوا ہے ۔ اس دھماکے میں تین افراد کی موت ہوگئی ہے جبکہ 25 لوگ زخمی ہوگئے ہیں ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • interna, IndiaKabulKabulKabul
    • Share this:
      کابل : افغانستان کی راجدھانی کابل میں وزارت کے پاس موجود مسجد میں دھماکہ ہوا ہے ۔ اس دھماکے میں تین افراد کی موت ہوگئی ہے جبکہ 25 لوگ زخمی ہوگئے ہیں ۔ ملک کے داخلی امور کی وزارت کے ترجمان عبد النئیف ٹاکور نے بتایا کہ یہ دھماکہ وزارت کے پاس واقع مسجد میں ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ اس دھماکہ کی جانچ جاری ہے ۔

      غور طلب ہے کہ پچھلے ہفتے جمعہ کو بھی مغربی کابل میں شہید مزاری روڈ پر اسکول میں ایک دھماکہ ہوا تھا ۔ اس میں 53 افراد مارے گئے ۔ مرنے والوں میں 46 لڑکیاں اور خواتین تھیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ دھماکہ اسکول کے اسٹڈی ہال میں اس وقت ہوا، جب اس میں طلبہ کی زبردست بھیڑ تھی ۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا خطرناک تھا کہ مرنے والوں کی لاشیں جگہ جگہ بکھری پڑی تھیں ۔

       

      یہ بھی پڑھئے : خطرے میں انسانوں کی نوکری! یہان ریسٹورینٹ میں روبوٹ نے دکھایا کمائی بڑھانے والا کارنامہ


       

      یہ بھی پڑھئے: 78 سال کی عمر میں شادی، 3 سال لیو ان میں بھی رہا، لڑکی کی عمر جان کر حیران رہ جائیں گے آپ


      اس دھماکہ میں سو سے زیادہ لوگ زخمی بتائے جارہے ہیں ۔ طالبان کے ترجمان نے بتایا تھا کہ یہ خودکش حملہ تھا، جو شیعہ علاقہ میں ہوا ۔ حملہ آوروں نے تعلیمی مرکز میں خود کو اڑا دیا ۔ دھماکہ کاویڈیو بھی سوشل میڈیا پر لگاتار وائرل ہورہا ہے ۔ اس واقعہ کے بعد افغانستان میں مظاہرے شروع ہوگئے ہیں ۔

      ہفتہ کو کم سے کم 50 خواتین دشت بارچی کی سڑکوں پر اتریں، جہاں اس حملے کو انجام دیا گیا تھا ۔ خواتین نے نعرے لگائے ۔ ہزارہ قتل عام بند کرو، شیعہ ہونا کوئی جرم نہیں ہے ۔ جانکاری کیلئے بتادیں کہ ہزارہ کمیونٹی پاکستان اور افغانستان میں بسنے والی شیعہ مسلمانوں کی اقلیتی آبادی ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: