உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کابل ایئرپورٹ پر فائرنگ میں 5 لوگوں کی موت، کئی مقامات پر لوٹ کی خبر، بغیر حجاب والی خواتین پر چلی گولیاں

    افغانستان سے صرف ایک راستہ کھلا ہے۔ کابل ایئرپورٹ۔ ایسے میں ائیر پورٹ  (Kabul Airport) پر بہت بڑا ہجوم جمع ہو گیا ہے۔ دریں اثنا ، ٹولو نیوز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ طالبان جنگجوؤں نے ائیر پورٹ پر بغیر حجاب والی خواتین پر فائرنگ کی۔

    افغانستان سے صرف ایک راستہ کھلا ہے۔ کابل ایئرپورٹ۔ ایسے میں ائیر پورٹ (Kabul Airport) پر بہت بڑا ہجوم جمع ہو گیا ہے۔ دریں اثنا ، ٹولو نیوز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ طالبان جنگجوؤں نے ائیر پورٹ پر بغیر حجاب والی خواتین پر فائرنگ کی۔

    افغانستان سے صرف ایک راستہ کھلا ہے۔ کابل ایئرپورٹ۔ ایسے میں ائیر پورٹ (Kabul Airport) پر بہت بڑا ہجوم جمع ہو گیا ہے۔ دریں اثنا ، ٹولو نیوز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ طالبان جنگجوؤں نے ائیر پورٹ پر بغیر حجاب والی خواتین پر فائرنگ کی۔

    • Share this:
      کابل۔ طالبان  (Taliban)  نے افغانستان  (Afghanistan)  پر قبضہ کر لیا ہے۔ لوگ طالبان کے خوف سے کسی نہ کسی طرح ملک چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ افغانستان سے صرف ایک راستہ کھلا ہے۔ کابل ایئرپورٹ۔ ایسے میں ائیر پورٹ  (Kabul Airport) پر بہت بڑا ہجوم جمع ہو گیا ہے۔ دریں اثنا ، ٹولو نیوز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ طالبان جنگجوؤں نے ائیر پورٹ پر بغیر حجاب والی خواتین پر فائرنگ کی۔ جواب میں امریکی فوجیوں نے بھی فائرنگ کی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فائرنگ میں 5 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ تاہم طالبان نے ہوائی اڈے پر فائرنگ کی تصدیق نہیں کی۔ اس وقت ایئرپورٹ امریکی فوجیوں کے کنٹرول میں ہے۔

      کابل چھوڑنے کے لیے ائیرپورٹ پر ہزاروں کی تعداد میں ایسے لوگ پہنچ گئے ہیں جن کے پاس  نہ ویزا اور نہ ہی ٹکٹ ہے۔ لوگوں کو کابل میں موبائل ریچارج کرانے میں دشواری کا سامنا ہے۔ ایسی صورت حال میں ، لوگ انٹرنیٹ اور کال کریڈٹ ایمرجنسی کیلئے بچا  رہے ہیں۔  طالبان جنگجو کابل کی سڑکوں پر گھوم رہے ہیں۔ کئی جگہ لوٹ مار کی خبر ہے۔ عام شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ 17 اگست کی صبح 8 بجے تک اپنے گھروں میں قید رہیں۔

       



      یہ ویڈیو کابل بین الاقوامی ہوائی اڈے کا ہے۔ طیارہ مکمل طور پر ہزاروں لوگوں سے گھرا ہوا ہے۔ ہوائی جہاز کے کیبن کے اندر جانے والی سیڑھی پر ، لوگ جہاز کے اندر جانے کے لیے دھکا مکی کر رہے ہیں۔

       
      Published by:Sana Naeem
      First published: