உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Taliban: آج افغانستان اورپاکستان کےدرمیان ڈیورنڈلائن پرمذاکرات، کیاکوئی خاص نتیجہ نکلےگا؟

    افغان طالبان حکومت کے رہنما (فائل فوٹو)

    افغان طالبان حکومت کے رہنما (فائل فوٹو)

    افغانستان کے لیے پاکستان کے نمائندہ خصوصی محمد صادق اور قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف بھی رزاق داؤد کے ہمراہ ہوں گے۔ پجوک افغان نیوز نے ایک سرکاری بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ معلومات افغانستان کے بین وزارتی رابطہ سیل (AICC) کے اجلاس میں شیئر کی گئیں۔

    • Share this:
      مقامی میڈیا کے مطابق افغان طالبان (Afghan Taliban ) اور پاکستانی حکام پیر یعنی 28 فروری 2022 کو افغانستان کے طورخم (Torkham) میں تجارتی بہاؤ اور ڈیورنڈ لائن کے اس پار لوگوں کی نقل و حرکت پر ایک میٹنگ کریں گے۔ پجوک افغان نیوز نے آج رپورٹ کیا کہ ایک اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت کرتے ہوئے تجارتی مشیر رزاق داؤد امارت اسلامیہ افغانستان (Islamic Emirate of Afghanistan) کے وزیر تجارت سے بات چیت کریں گے۔

      افغانستان کے لیے پاکستان کے نمائندہ خصوصی محمد صادق اور قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف بھی رزاق داؤد کے ہمراہ ہوں گے۔ پجوک افغان نیوز نے ایک سرکاری بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ معلومات افغانستان کے بین وزارتی رابطہ سیل (AICC) کے اجلاس میں شیئر کی گئیں۔

      حال ہی میں قندھار کے اسپن بولدک ضلع میں ڈیورنڈ لائن پر طالبان اور پاکستانی افواج کے درمیان لڑائی ہوئی ہے، جس میں 20 زخمی اور 3 افراد آمنے سامنے ہیں۔ اس واقعے میں اب تک 20 شہری زخمی اور تین ہلاک ہو چکے ہیں۔

      ٹویٹر پر Asvaka News نے کہا کہ قندھار کے ضلع اسپن بولدک میں ڈیورنڈ لائن پر طالبان اور پاک فورسز کے درمیان آج دوپہر سے لڑائی جاری ہے جس میں اب تک 20 شہری زخمی اور تین ہلاک ہوچکے ہیں۔ شہری اپنے گھروں سے بھاگ گئے ہیں۔ ڈیورنڈ لائن کے قریب یہ ہو رہا ہے۔

      قندھار کے ذرائع کے مطابق اسپن بولدک گیٹ پر پاکستانی سرحدی محافظوں نے ایک افغان بچے کو زدوکوب کیا اور افغان سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں پاکستانی سرحدی محافظوں پر فائرنگ کی۔ یہ واقعہ جمعرات کی سہ پہر پیش آیا جس کے بعد گیٹ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا۔

      اس میں مزید کہا گیا کہ واقعے کے بعد البدر کور کے فوجی دستے جائے وقوعہ پر پہنچے اور پاکستانی سرحدی محافظوں کو جواب دینے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ڈیورنڈ لائن کے معاملے پر پاکستان اور طالبان کے درمیان اختلافات بدستور برقرار ہیں۔

      تاہم پاکستان اور طالبان کے درمیان دوطرفہ تعلقات ڈیورنڈ لائن کے معاملے اور اسلام آباد کے خلاف تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جیسے گروپوں کی سرحد پار سے دہشت گردی کی سرگرمیوں کے معاملے پر مخالف ہو رہے ہیں۔ پاکستان ڈیورنڈ لائن کے قریب قبائلی علاقوں کو اپنے کنٹرول میں لانے اور ڈیورنڈ پر خاردار تاروں کی باڑ لگانے کا کام مکمل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

      پاکستانی فوجیوں پر مہلک حملوں کے بعد پاکستانی فوج نے افغانستان کے قریب ڈیورنڈ لائن کے ساتھ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان نے اپنی دوطرفہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور ملک برسوں سے دہشت گردی کی تربیت اور مالی معاونت پر بین الاقوامی تنقید سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: