உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغانستان : سابق نائب صدر دوستم کے بیٹے کا طالبان نے کیا اغوا ، قائم مقام وزیر خزانہ ملک سے فرار

    افغانستان : سابق نائب صدر دوستم کے بیٹے کا طالبان نے کیا اغوا ، قائم مقام وزیر خزانہ ملک سے فرار

    افغانستان : سابق نائب صدر دوستم کے بیٹے کا طالبان نے کیا اغوا ، قائم مقام وزیر خزانہ ملک سے فرار

    افغانستان میں طالبان کی بڑھتی پیش قدمی اورمتعدد صبوں پر کنٹرول کرنے کے باعث خوف سے افغانستان کے شہری اور اقتدار میں شامل کردہ افراد ہی نہیں وزیر بھی ملک سے فرار ہونے لگے ہیں۔

    • Share this:
      کابل : طالبان اب افغانستان میں اپنا تسلط قائم کرنے کے لیے سیاستدانوں کے خاندان کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں ۔ نیوز یونیک کی ایک رپورٹ کے مطابق طالبان نے افغانستان کے سابق نائب صدر عبدالرشید دوستم کے بیٹے کو جوزجان ایئر پورٹ سے اغوا کر لیا ہے۔ صدر اشرف غنی نے ایک روز قبل بدھ کو ہی عبدالرشید دوستم سے ملاقات کی تھی۔ دوستم شمالی افغانستان کے بڑے لیڈر ہیں۔ انہوں نے 90 کی دہائی میں افغانستان میں ناردن ایلائنس کی بنیاد رکھی تھی ۔ جانکاری کے مطابق طالبان نے کچھ افغان فوجیوں کو ان کے بیٹے کے ساتھ اغوا بھی کیا ہے ۔ تاہم اس واقعہ کی ابھی تک طالبان یا افغانستان کی حکومت نے تصدیق نہیں کی ہے۔

      ادھر افغانستان میں طالبان کی بڑھتی پیش قدمی اورمتعدد صبوں پر کنٹرول کرنے کے باعث خوف سے افغانستان کے شہری اور اقتدار میں شامل کردہ افراد ہی نہیں وزیر بھی ملک سے فرار ہونے لگے ہیں۔ اے آر وائی نیوزکی ایک رپورٹ کے مطابق چند روز قبل امریکی فوجیوں کے مترجم کی بڑی تعداد خصوصی طیارے کے زریعے واشنگٹن روانہ ہونے کی خبر آئی تھی اور آج افغانستان کے قائم مقام وزیر خزانہ ملک چھوڑ کر چلے گئے۔

      افغان وزارت خزانہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ طالبان کی افغان سرزمین پر قبضے میں تیزی کے باعث خالد پائندہ نے استعفیٰ دیا ہے ۔ ترجمان نے بتایا کہ خالد پائندہ کی ملک چھوڑنے کی دوسری وجہ ان کی بیمار اہلیہ ہیں ۔ انہیں بیرون ملک علاج کیلئے لے جانا وقت کی اہم ضرورت تھی۔

      وہیں یورپی یونین کے مطابق غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد طالبان نے ملک کے 65 فیصد حصے کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے ۔ طالبان کی کابل کی جانب پیش قدمی تیزی سے جاری ہے۔ اس سے قبل آج افغانستان سے متعلق بڑی خبر آئی تھی کہ افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کے ہاتھوں افغان فورسز کی شکست کے بعد افغان آرمی چیف ولی محمداحمد زئی کوعہدے سے ہٹایا اور ہیبت اللہ کو نیا آرمی چیف تعینات کیا تھا۔

      یاد رہے کہ طالبان نے چھ روز میں نو صوبائی دارالحکومت پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ قندھار میں طالبان اور فورسزمیں جاری لڑائی میں شدت اختیار کرتی جارہی ہے۔ طالبان کے ترجمان نے کہا ہے کہ قندوز ایئرپورٹ پر افغان فورسز کے درجنوں سپاہی ہتھیار ڈال کر متعدد گاڑیوں، اسلحے سمیت طالبان کے ساتھ شامل ہوئے ہیں۔

      نیوز ایجنسی یو این آئی کے ان پٹ کے ساتھ ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: