உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغانستان : فرانس اور جرمنی سمیت 64 ممالک نے طالبان سے کی خاص اپیل، کہی یہ بڑی بات

    افغانستان : فرانس اور جرمنی سمیت 64 ممالک نے طالبان سے کی خاص اپیل، کہی یہ بڑی بات

    افغانستان : فرانس اور جرمنی سمیت 64 ممالک نے طالبان سے کی خاص اپیل، کہی یہ بڑی بات

    Afghanistan News : بیان میں کہا گیا ہے کہ"افغانی اور غیر ملکی شہری جو وہاں سے جانا چاہتے ہیں انہیں ایسا کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ سڑکیں ، ہوائی اڈے اور سرحدیں کھلی رہیں اور امن برقرار رکھا جائے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      کابل : دنیا کے 64 ممالک نے ایک مشترکہ بیان پر دستخط کئے ہیں ، جس میں طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان چھوڑنے کے خواہشمندوں کی محفوظ اور منظم روانگی کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ کینیڈا ، فرانس ، جرمنی اور برطانیہ سمیت 64 ممالک نے مشترکہ بیان پر دستخط کئے ہیں ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ "سیکورٹی کی بگڑتی ہوئی صورت حال کو دیکھتے ہوئے ہم غیر ملکی شہریوں اور افغانوں کی محفوظ اور منظم طریقے سے روانگی کو محفوظ بنانے اور ان کا احترام کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔" وہ لوگ جن کے ہاتھ میں طاقت اور اختیارات ہیں وہ افغانستان میں انسانی جان و مال کے تحفظ اور سول آرڈر کی فوری بحالی کے لیے ذمہ دار اور جوابدہ ہیں۔‘‘

      بیان میں کہا گیا ہے کہ"افغانی اور غیر ملکی شہری جو وہاں سے جانا چاہتے ہیں انہیں ایسا کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ سڑکیں ، ہوائی اڈے اور سرحدیں کھلی رہیں اور امن برقرار رکھا جائے۔ افغان عوام حفاظت اورعزت کے ساتھ زندگی گزارنے کے مستحق ہیں۔ بین الاقوامی برادری کے طور پر ہم ان کی مدد کے لیے تیار ہیں۔ "

      یہ بیان طالبان کے ملک پر قبضے کے بعد آیا ہے۔ طالبان کے ملک کے صوبوں پر حملے کے ساتھ افغان سرکار افواج یا تو بھاگ گئی یا ہتھیار ڈال دیے۔ اس کی وجہ سے طالبان نے 34 صوبوں میں سے 26 پر بشمول دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا۔ طالبان نے اتوار کی شام کابل میں صدارتی محل پر بھی قبضہ کر لیا۔

      افغانستان کی قومی مصالحتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ "سابق صدر" غنی ملک چھوڑ چکے ہیں۔ مسٹر عبداللہ نے کہا کہ انہوں نے (مسٹر غنی) ایک مشکل وقت میں افغانستان چھوڑ دیا خدا ان کا احتساب کرے گا۔  سابق صدر حامد کرزئی ، مسٹر عبداللہ عبداللہ اور سابق وزیر اعظم اور تجربہ کار سیاستدان گلبدین حکمت یار نے اقتدار کی باآسانی منتقلی کو یقینی بنانے کے لیے ایک کونسل قائم کی ہے۔

      طالبان کی مشاورتی کونسل پہلے ہی افغان سیکورٹی فورسز اور سرکاری افسران کے لیے عام معافی کا اعلان کر چکی ہے جو غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالتے ہیں۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: