உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغانستان میں طالبان سرکار کو تسلیم کریں گے چین سمیت یہ چار ممالک! برقرار رکھیں گے سفارت خانہ

    افغانستان میں طالبان سرکار کو تسلیم کریں گے چین سمیت یہ چار ممالک! برقرار رکھیں گے سفارت خانہ(Pic- AP)

    افغانستان میں طالبان سرکار کو تسلیم کریں گے چین سمیت یہ چار ممالک! برقرار رکھیں گے سفارت خانہ(Pic- AP)

    کچھ ممالک طالبان سرکار (Taliban Government) کو منظوری دینے میں اپنا نرم رخ اپنا دکھا رہے ہیں ۔ خبر آئی ہے کہ چین ، روس ، ترکی اور پاکستان جیسے ممالک کابل میں اپنا سفارت خانہ بند نہیں کریں گے ۔

    • Share this:
      طالبان نے اب افغانستان پر قبضہ کر لیا ہے۔ ایک دہشت گرد تنظیم کی حکومت کو تسلیم کرنے کو لے کر عالمی سطح پر ہنگامہ برپا ہے ۔ لیکن جس طرح کی صورت حال نظر آرہی ہے ، کچھ ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کرنے میں نرم رویہ اختیار کرتے نظر آرہے ہیں ۔ خبر ہے کہ چین ، روس ، ترکی اور پاکستان جیسے ممالک کابل میں اپنا سفارت خانہ بند نہیں کریں گے ۔ یہ چاروں ممالک طالبان کے دور حکومت میں بھی اپنے سفارت خانے کھولے رکھیں گے ۔

      دریں اثنا چین نے پیر کو واضح کیا کہ وہ طالبان حکومت کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم رکھنا چاہتا ہے ۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چین نے کہا کہ وہ افغان طالبان کے ساتھ' دوستانہ تعلقات 'بنانے کے لیے تیار ہے ۔ طالبان کے قبضہ کے بعد چین کی جانب سے یہ پہلا تبصرہ ہے ۔ ساتھ ہی روس کی طرف سے کہا گیا ہے کہ یہ طالبان کے رویہ پر منحصر ہوگا کہ اس کو تسلیم کیا جائے یا نہیں ۔

      وہیں پاکستان کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ وہ طالبان حکومت کو تسلیم کر سکتا ہے ۔ ویسے بھی طالبان کا ہیڈ کوارٹر پاکستان میں ہی ہے ۔ ایسی صورت حال میں پاکستان کی طالبان کو حمایت جگ ظاہر ہے ۔ کچھ دنوں پہلے ہندوستانی وزارت خارجہ نے افغانستان میں تشدد کے پیچھے پاکستان کی حمایت کو ذمہ دار قرار دیا تھا ۔ وزارت نے کہا تھا کہ دنیا جانتی ہے کہ طالبان کو پاکستان کے جہادیوں اور دہشت گردوں کی حمایت حاصل ہے ۔ دنیا اس سے واقف ہے اور اس کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔

      ترکی کا کیا ہوگا موقف؟

      وہیں ترکی میں بہت سے لوگ اس خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے اور امریکہ کے ساتھ غیر مستحکم تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے ایک موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ مانا جارہا ہے کہ کابل میں ترکی کے سفارت خانے کی موجودگی جاری رہے گی ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: