ہوم » نیوز » عالمی منظر

مشرقی افریقہ میں تباہی مچاکر ہندستان پہنچی ہیں کروڑوں ٹڈیاں، اقوام متحدہ نے دیا انتباہ 

ہندستان کی کئی ریاستوں ٹڈی (Locust attack India) کے بڑے۔بڑے قافلے حملہ کررہے ہیں اور فصلوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ آپ کو بتادیں کہ یہ ٹڈی کا دل گزشتہ تین مہینوں سے مشرقی افریقہ (East Africa) کے اس ممالک میں بھاری تباہی مچائے ہوئے تھے۔ ا

  • Share this:
مشرقی افریقہ میں تباہی مچاکر ہندستان پہنچی ہیں کروڑوں ٹڈیاں، اقوام متحدہ نے دیا انتباہ 
ہندستان کی کئی ریاستوں ٹڈی (Locust attack India) کے بڑے۔بڑے قافلے حملہ کررہے ہیں اور فصلوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ آپ کو بتادیں کہ یہ ٹڈی کا دل گزشتہ تین مہینوں سے مشرقی افریقہ (East Africa) کے اس ممالک میں بھاری تباہی مچائے ہوئے تھے۔ ا

ہندستان کی کئی ریاستوں میں  ٹڈی (Locust attack India) کے بڑے۔بڑے قافلے حملہ کررہے ہیں اور فصلوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ آپ کو بتادیں کہ یہ ٹڈی کا دل گزشتہ تین مہینوں سے مشرقی افریقہ (East Africa)  کے اس ممالک میں بھاری تباہی مچائے ہوئے تھے۔ اقوام متحدہ سنگھ  (UN)  نے گزشتہ دنوں ہندوستان اور اور دیگر جنوبی ایشیائی ممالک کے لیے ان ڈیو کے حملوں کو لے کر ایک الرٹ جاری کیا تھا۔ اقوام متحدہ کی مانیں تو ہندوستان میں بھی ٹڈیوں کے شروعاتی قافلے پہنچے ہیں۔ آنے والے دنوں میں میں حالت اور بھی بگڑ سکتی ہے۔

گاجر میں چھپی ایک رپورٹ کے مطابق ہڈیوں کے ان فرقوں نے گذشتہ مہینوں میں مشرقی افریقہ کے ملک کینیا، یوگانڈا، تنجانیہ، روانڈا، برونڈی، ایتھوپیا ساؤتھ سوڈان، دیجیبوتی، ایریتیریا اور صومالیہ میں کافی تباہی مچائی ہے۔ ان علاقوں میں بارش ہونے کے بعد سیٹیوں کی تعداد میں بیس گنا اضافہ ہوگیا اور کینیا، ایتھوپیا ساؤتھ سوڈان، دیجیبوتی، ایریتیریا اور صومالیہ میں انہوں نے تباہی مچادی دی کہ اس سال قحط جیسے حالات میں پیدا ہو سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق چڑیوں کا ایک قافلہ اللہ ایک تہائی اسکوائر میل میں سفر کرکے فصلوں کو اتنا نقصان پہنچادیتا ہے جتنے میں 35,000 لوگ ایک دن میں کھانا کھالیں۔ UN  نے افریقہ میں ٹڈیوں کے اس حملے کو ٹڈٰ پلیگ کا نام دیا ہے۔ خاص کر صومالیہ میں واقع حالات خراب ہیں۔


سائنسدانوں کے مطابق یہ ٹڈی کا قافلہ ایک دن مین 90  میل تک کا سفر طے کرسکتا ہے۔ یہ اپنے جسم کے وزن سے بھی زیادہ فصل کھانے میں صلاحیت رکھتے ہیں۔ بارش کے موسم میں یہ تیزی سے پیدا ہوتے ہیں اور ان کی تعداد 10 دنوں میں ہی ڈبل ہوجاتی ہے، اقوام متحدہ نے انہیں پلیگ اس لئے کہا ہے کیونکہ یہ اسی کی طرح بڑھتی ہیں اور پھر ُآس۔پاس کے ممالک ۔شہروں میں پھیل جاتی ہیں۔

First published: May 27, 2020 02:42 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading